منیجنگ ڈائریکٹر بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا دورہ اسلامی یونیورسٹی
Published on: September 17th, 2021

 منیجنگ ڈائریکٹر بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن (بی ای ایف)  پروفیسر شیر زمان نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا دورہ کیا، انہوں نے تعلیم کے فروغ اور بلوچستان کے طلباء کے لیے خصوصی اقدامات جیسے امور پر یونیورسٹی کی قیادت کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

وہ بلوچستان کے گورنر سید ظہور احمد آغا کی قیادت میں وفد کا حصہ تھے جس نے یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی سے ملاقات کی اور جامعہ کے ادارہ تحقیقات اسلامی کا بھی دورہ کیا۔

اس موقع پر پروفیسر شیر زمان نے بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن  کے مقاصدسے آگاہ کیا،انہوں نے بتایا کہ بی ای ایف شرح خواندگی کو بہتر بنانے اور تعلیم کے فروغ کے لیے بلوچستان بھر کے تعلیمی اداروں کی مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تعلیم کے شعبے کے فروغ کے لیے بجٹ میں بی ای ایف کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے ہیں۔ وفد کو ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل  ڈاکٹر محمد  ضیا الحق نے پیغام پاکستان پر بریفنگ دی اور ادارے  کا دورہ کرایا۔ پروفیسر شیر زمان نے اسلامی یونیورسٹی کے بلوچستان کے طلبا کے لیے اقدامات اور ادارہ تحقیقات اسلامی کے بلوچستان کے لیے حالیہ   پیغام  پاکستان کے تحت منعقدہ آوٹ ریچ پروگراموں کو بھی سراہا۔

 

گورنر بلوچستان کی صدر اسلامی یونیورسٹی سے ملاقات
Published on: September 17th, 2021

باہمی دلچسپی کے امور و ملکی ترقی میں تعلیمی اداروں کے کردار پر تبادلہ خیال

 بلوچستان کے گورنر سید ظہور احمد آغا نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی سے فیصل مسجد کیمپس میں ملاقات کی۔

صدر جامعہ کے دفتر میں بدھ کو ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور ملکی ترقی میں تعلیمی اداروں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں عہدیداروں نے اسلامی یونیورسٹی اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں کے درمیان تعلیمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے ،اعلی معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات اور معاشرے کی تعمیر میں یونیورسٹیوں کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ،ادارہ تحقیقات اسلامی  ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے بھی شرکت کی.

اس موقع پر معاشرے کی تعمیر اور خدمت میں اسلامی یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے  گورنر نے معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو باہمی تعاون کے ذریعے تجربات کے تبادلے کو فروغ دینا چاہیے۔  گورنر نے جامعہ میں بلوچستان کی طلبا کے لیے  خصوصی اقدامات  اور وظائف   پر جامعہ کی خدمات کو سراہا۔ پاک سعودی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ اہمیت دی کیونکہ دونوں برادار ممالک مثالی تعلقات رکھتے ہیں۔

ملاقات  کے دوران اسلامی یونیورسٹی کے صدر نے گورنر کو یونیورسٹی کے وژن ، نئے منظور شدہ اسٹریٹجک پلان اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات اور مستقبل کےا ہداف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے  مابین  دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں اور اسلامی  یونیورسٹی  اس کی حقیقی مثال ہے۔  انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی بلوچستان کے طلبا  کے لیے کوٹہ جیسے اقدامات کے ذریعے بھرپور معاونت فراہم کر رہی  جبکہ مسقتبل میں دورراز علاقوں کے طلبا اور حقدار طلبا کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ بعد ازاں گورنر نے ادارہ تحقیقات اسلامی کی پیغام پاکستان اور تاریخ پاکستان  کی تصویری گیلریوں کا بھی دورہ کیا جہاں ڈاکٹر ضیا الحق نے انہیں پیغام پاکستان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

 

 

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں آزمائشی بنیادوں پر ای آفس کا آغاز
Published on: September 7th, 2021

ای آفس ڈیٹا بیس جلد پورے کیمپس میں فعال کر دیا جاے گا، صدر اسلامی یونیورسٹی
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے کاغذ کے کم سے کم استعمال اور دفتری امور کی انجام دہی کو مزید تیز تر کرنے کے لیے ای آفس ڈیٹا بیس کا آزمائشی بنیادوں پر استعمال شروع کر دیا۔
سوموار کے روز صدرِ جامعہ ھذال حمود العتیبی نے آزمائشی بنیادوں پر شروع ہونے والے ڈیٹا بیس کا افتتاح کیا اور اس کے طریقہ کار اور استعداد کا جائزہ لیا- نائب صدر انتظامی و مالیاتی امور ڈاکٹر نبی بخش جمانی نے بھی ا ی آفس ڈیٹابیس پر الیکٹرانک فارمیٹ میں فائلز کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر ھذال حمود کا کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال اور کاغذ کے کم سے کم استعمال کی پالیسی پر ترجیحاً عمل کیا جاے گا اور جلد ہی یہ ڈیٹا بیس پورے کیمپس میں فعال ہو جاے گا جس کے امور کی انجام دہی میں آسانی سمیت ان کی تکمیل میں قلیل مدت لگے گی. ان کا کہنا تھا کہ فی زمانہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق چلنا اہم ضرورت ہے اور اسلامی یونیورسٹی اس ضمن میں جدید کلاس رومز، ای آفس کے استعمال اور جدید ذرائع اپنانے پر خصوصی توجہ دے رہی۔ڈاکٹر نبی بخش جمانی کا کہنا تھا کہ ای آفس کا آغاز دراصل ایک نئے سفر کا آغاز ہے جو کہ صدر جامعہ کے وژن کا غماز ہے. ان کا کہنا تھا کہ صدر جامعہ کی ہدایات کی روشنی میں ڈیجیٹایزیشن اور امور کی بروقت تکمیل اولین ترجیحات ہیں اور انتظامیہ جامعہ کو مزید نمایاں اور ممتاز ادارہ بنانے میں کوئی بھی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔یاد رہے کہ اسلامی یونیورسٹی پہلا تعلیمی ادارہ ہوگا جو وزارت انفارمیشن و ٹیکنالوجی کے تیارکردہ ڈیٹا بیس کو باقاعدہ استعمال میں لاے گا-

 

حریت رہنما سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔
Published on: September 3rd, 2021

جمعہ کے روز غائبانہ نماز جنازہ کی امامت ڈائریکٹر جنرل دعوہ اکیڈمی ڈاکٹر محمد الیاس نے کی. نماز جنازہ میں میں صدر مملکت  و چانسلر اسلامی یونیورسٹی  ڈاکٹر عارف علوی،ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید, وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری، مشیرقومی سلامتی معید یوسف اوروزیراعظم آزاد کشمیرسردارعبدالقیوم نیازی، ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یاسین زئی، صدر جامعہ ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی اور دیگر اعلیٰ عہدیداران سمیت اساتذہ و طلبا نے شرکت کی۔

حریت رہنما کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک تھے، جس کے بعد سیدعلی گیلانی کے درجات کی بلندی کیلیے دعا بھی کی گئی۔اس موقع پر  شرکاء نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کشمیر کی آزادی کے لیے بھی دعا کی

 

صر حاضر کی ضروریات سے مطابقت رکھنے والا نصاب وقت کی اہم ضرورت ہے:   ڈاکٹر ھذال حمود
Published on: September 3rd, 2021

 صدر بین الاقوامی  اسلامی  یونیورسٹی  ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی نے کہا ہے کہ  عصر حاضر کی ضروریات سے مطابقت رکھنے والا نصاب وقت کی اہم ضرورت ہے جو  تحقیقی و تدریسی ترقی اور اعلی معیاری  تعلیم کی فراہمی کو ممکن بنا سکتا ہے جبکہ   فی زمانہ    جامعات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے  کیونکہ اب ان کا کردار معاشرے کے مسائل کا حل پیش کرنے والے اداروں کے طور پر کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز یہاں فیصل مسجد کیمپس میں  درس وتدریس میں بہتری اور اساتذہ کے لیے عملی وسائل کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوے کیا  جس کا انعقاد دفتر نائب صدر تدریسی امور  اور جامعہ  کےانسٹی ٹیوٹ آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ نے کیا  تھا ۔

اپنے خطاب میں صدر  جامعہ نے کہاکہ اسلامی یونیورسٹی کے پاس بہترین وسائل ہیں اور جامعہ اپنے اساتذہ اور دیگر جملہ عہدیداران  کی بدولت  بہت جلد ایک بہترین عالمی  ادارہ بننے کی صلاحت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامی یونیورسٹی کی عالمی رینکنگ میں بہتری ٓئی ہے جو ہمارے  کامیابی کے طرف سفر کی ایک علامت ہے اور اب جامعہ  دنیا کی  بہترین چھ سو سے آٹھ سو جامعات کی فہرست میں  شامل ہو گئی ہے۔ انہوں نےاحساس ذمہ داری کے رویہ کو فروغ دینے پر زور دیا۔انہوں نے کہا  کہ جامعہ  کے اساتذہ کے پاس تمام معیارات اور صلاحیتیں ہیں جو کسی بھی یونیورسٹی کو اعلیٰ بین الاقوامی اداروں کی صف میں شامل ہونے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  امور کی انجام دہی میں تاخیر اور مایوسی کا رویہ کیمپس میں عام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اہداف کے حصول کے لیے امید اور محنت کے خواص کو اپنایا جانا چاہیے۔  صلاحیتوں کو نکھارنے اور استعداد کار کو بڑھانے   کے لیے تربیتی  پرگراموں   کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر ھذال  نے کہا کہ یونیورسٹی کا مختلف شعبوں کے ذریعے مزید تربیتی پروگرام  شروع کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ تحقیق اور تعلیم  کے شعبہ میں یونیورسٹی کی پوزیشن بہتر ہو۔ انہوں نے فیکلٹی ممبران پر زور دیا کہ وہ طلباء کو اپنی ترجیح بنائیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اولین مقصد طالب علموں کے مسائل کو حل کرنا ہے۔قبل ازیں ، نائب صدر (تدریسی امور) ڈاکٹر ایاز افسر نے ورکشاپ  کے مقاصد اور مستقبل کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا صدر جامعہ  کے وژن کے مطابق ، یونیورسٹی کو دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی فہرست میں لانے کے خواہاں ہیں۔ اختتامی سیشن میں تمام ڈینز ، سینئر فیکلٹی ممبران اور آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران بھی شریک تھے جن میں ڈاکٹر محمد شیراز دستی ، کاشف سہیل ملک ، ڈاکٹر شازیہ نورین ، شاہ نواز کھوکھر ، ڈائریکٹر تدریسی  امور ملک یعقوب اعوان اور ڈائریکٹر آئی پی ڈی ، سید نوید احتشام شامل ہیں۔

 

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی  اور چیمبر کے مابین باہمی تعاون کا معاہدہ
Published on: September 1st, 2021

صنعتی شعبے کیلئے تحقیقی  منصوبوں کے فروغ پر اتفا ق

اکیڈمیا اور  شعبہ صنعت کے مابین رابطہ  وقت کی اشد ضرورت ہے، ڈاکٹر ھذال حمودالعتیبی  

 بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور  اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے مابین  مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ شعبہ صنعت  اور شعبہ  تعلیم  کے روابط کو مضبوط کر کے صنعتی شعبے کے اہم مسائل کو حل کرنے کیلئے تحقیقی  منصوبوں کو فروغ دیا جاسکے۔ اس سلسلے میں چیمبر میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی  نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر اسلامی یونیورسٹی  کے نائب صدور ڈاکٹر نبی بخش  جمانی اور ڈاکٹر احمد شجاع سید  بھی موجود تھے۔

مفاہمت کی یادداشت کے مطابق دونوں اداروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ مشترکہ کوششوں سے طلبا میں صنعتی شعبے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اپلائیڈ ریسرچ پراجیکٹس کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ صنعتی شعبہ بہتر ترقی کر سکے۔ اس کے علاوہ دونوں ادارے مشترکہ طور پر ایسے اقدامات پر کام کریں گے جو صنعتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ان کی پیداواری لاگت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ دونوں ادارے مشترکہ طور پر باہمی دلچسپی کے امور پر کانفرنسیں، سیمینار، ورکشاپس، جاب فیئرز، تحقیقی منصوبے، آگاہی سیشن اور دیگر پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام منعقد کریں گے۔ دونوں ادارے باہمی تعاون کے ذریعے طلباء کے لیے انٹرن شپ پروگرام اور تربیتی پروگرام ترتیب دینے کی کوشش کریں گے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے طلباء مقامی صنعت کو درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کرنے کے لیے تحقیقی کریں گے جن کو چیمبر اور اسلامک یونیورسٹی کی مشترکہ ٹیموں کے سامنے پیش کیا جائے گا تا کہ ان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی چیمبر کے ممبروں کے طلباء کو یونیورسٹی کے طے کردہ میرٹ پر ٹیوشن فیس میں 10 فیصد رعایت فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی چیمبرکے سفارش کردہ اور ڈونر ایجنسی کے معیار پر پورا اترنے والے تین مستحق طلباء کو ہر سال اپنی مختلف اسکالرشپ اسکیموں کے ذریعے ٹیوشن فیس میں مکمل چھوٹ دینے کی کوشش کرے گی۔ چیمبر انڈسٹری کے نمائندوں اور اسلامک یونیورسٹی کی فیکلٹی اور طلباء کی مشترکہ میٹنگز کا اہتمام کرے گا تاکہ نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔ چیمبریونیورسٹی کو ایسے ٹریننگ پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا جو اس کے یا سرکاری اداروں کی جانب سے مختلف شعبوں میں فیکلٹی اور طلباء کی صلاحیت بڑھانے کے لیے منعقد کئے جائیں گے۔ چیمبر انڈسٹری میں اسلامک یونیورسٹی کے طلباء کے لیے انٹرن شپ کے مواقعوں کی بھی نشاندہی کرے گا اور صنعتی یونٹوں، تجارتی اور کارپوریٹ اداروں میں ان کو انٹرنشپ فراہم کرنے میں سہولت فراہم کرے گا۔

اس موقع پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ طلبا میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کیلئے چیمبر اور یونیورسٹیوں کے مابین مضبوط روابط کا قیام بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر مختلف یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدے کرکے مضبوط انڈسٹری اکیڈمیا روابط کو فروغ دینے کے لیے کوشاں کیونکہ یہ روابط مہارت کی ترقی، علمی معیشت اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے بہت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان مضبوط روابط نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر تحقیق و ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیمبر اور اسلامی  یونیورسٹی کا باہمی تعاون نوجوانوں میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے اور صنعتوں کے اہم مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

 بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی  نے اپنے خطاب میں کہا شعبہ صنعت  اور شعبہ  تعلیم  کو قریب لا کر پاکستان میں نالج اکانومی کو بہتر فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں معیاری تحقیقی کا کام کر رہی ہیں جو یونیورسٹیوں اور صنعتی شعبے کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دے کر صنعتوں کیلئے کافی فائدہ مند ہو سکتا ہے اور ان کے اہم مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیمبر اور اسلامی  یونیورسٹی کے درمیان تعاون کا معاہدہ طلبا کو کاروبار کی طرف راغب کرنے اور صنعتی شعبے کو جدید خطوط پر ترقی دینے میں معاون ثابت ہو گا۔

 

حافظ طاہر محمود اشرفی کی صدر اسلامی یونیورسٹی  سے ملاقات  
Published on: September 1st, 2021

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر محمود اشرفی نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ھذال  حمود العتیبی  سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے  جامعہ کی خدمات کو سراہا اور یونیورسٹی میں ایک عظیم الشان مسجد کے قیام  کا تحفہ دینے پر خادمین حرمیں شریفین کا شکریہ ادا کیا۔ صدر جامعہ کی محنت کو سراہتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی ان کی قیادت میں دوگنی رفتار سے ترقی کرے گی۔ انہوں نے کہا مسلم امہ کے مسائل کا حل پوری مسلم دنیا کی یکجہتی میں مضمر ہے اور مسلم ممالک کی یونیورسٹیاں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اسلامی یونیورسٹی کے صدر نے انہیں یونیورسٹی کے وژن ، نئے منظور شدہ اسٹریٹجک پلان اور  تدریس وتعلیمی کے اعلی معیار کے ہدف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب  کے مابین  دیرینہ اور  برادرانہ تعلقات ہیں اور اسلامی یونیورسٹی اس کی حقیقی مثال ہے۔

 

مدارس اسلامی معاشرے کا بنیادی حصہ ہیں: ریکٹر اسلامی یونیورسٹی
Published on: August 29th, 2021

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ رحمۃ للعالمین حضرت محمد  ﷺ   کی سیرت میں ہرزمانے کے لیے رہنمائی  کے خطوط موجود ہیں۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اس رہنمائی سے محروم نہیں ہوسکتا۔ ہماری زندگیوں کا کوئی بھی شعبہ رسول اللہ ﷺ کی رہنمائی سے محروم نہیں ہوسکتا۔ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے مزید کہا کہ اسلام ایک ہمہ گیر دین ہے۔ اس کے 90 فیصد معاملات دنیا سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ 10 فیصد عبادات وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ انہوں  نے  دینی مدارس کو معاشرے کا ایک اہم جزو قرار دیا اور کہا کہ مدارس کو معاشرے سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے قومی یکساں قومی نصاب تعلیم  کی حکومتی کاوش کو سراہتے ہوئے  کہا کہ اس کو بھرپور طریقے سے کامیاب بنانے پر زور دیا اور کہا کہ دینی مدارس کو چاہیے کہ وہ حکومت کے نافذ کردہ قومی یکساں نصاب تعلیم کو اپنے اداروں میں قبول کریں  تاکہ پاکستان علمی ترقی کے میدان  ایک ساتھ آگے بڑھ سکے۔

  ہزارہ یونیورسٹی میں اقبال انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ  کے زیر اہتمام فضلاء مدارس اور نوجوان دانشوروں  کے لیے دوروزہ ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جمیل احمد، ممتاز دانشور اور قانون دان بیرسٹر ظفراللہ خان اور اقبال انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے سربراہ ڈاکٹر حسن الامین بھی موجود تھے۔ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جمیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی  کے ادارہ اقبال انسٹی ٹیوٹ نے علماء، فضلاء اور طلبہ کی تربیت اور مختلف مسالک کے افراد کے مابین ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھرپور کام کا آغاز کیا ہے۔ اس لیے کہ معاشرہ کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مدارس اور معاصر تعلیمی اداروں کے فضلاء کے مابین بعد کو کم کیا جائے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ مدارس کے فضلاء  کی تکریم میں اضافہ کیا جائے اور انہیں معاشرے کا محترم ترین طبقہ سمجھا جائے۔

آئی آر ڈی کے سربراہ ڈاکٹر حسن الامین نے دوروزہ ورکشاپ میں دینی مدارس کے فضلاء اور نوجوان دانشوروں کی دلچسپی کو سراہا اور اس طرح کے مزید پروگرام تسلسل کے ساتھ منعقد کروانے کا اعلان بھی کیا۔اس موقع پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی  اور ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جمیل احمد  نے باہمی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں یونیورسٹیوں میں علمی تحقیق اور مشترکہ سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔

 

 

صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کاتعمیراتی منصوبوں   کا دورہ،  نو تعمیر شدہ مرکزی دروازے کا بھی جائزہ لیا
Published on: August 26th, 2021

تعمیراتی منصوبوں  پہ کام مزید تیز کرنے کی ہدایت 

صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر ھذال حمودالعتیبی نے  جامعہ کے نیوکیمپس میں تعمیراتی منصوبوں  پہ جاری کام کا جائزہ لیا  اور مرکزی  دروازے کی توسیع کی غرض  سے نو تعمیر شدہ انٹری گیٹ  کا بھی دورہ کیا ۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر این بی جمانی  (نائب صدر ، انتظامیہ و مالیات) اور پروفیسر ڈاکٹر ایاز افیسر (نائب صدر ، تدریسی امور ) بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ پراجیکٹ و پلاننگ ، ہارٹیکلچر اور دیگر متعلقہ شعبہ جات کے افسران اور سٹاف ممبران بھی موجود تھے۔

صدر  جامعہ نے مرکزی دروازے کے سامنے لنک روڈ کا بھی دورہ کیا اور اس سلسلے میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون کو سراہا۔  متعلقہ عہدیداروں  نے انہیں مرکزی گیٹ پر سیکورٹی کے انتظامات  اور بلا تعطل ٹریفک کے بہاو سمیت دیگر متعلقہ امور پر بریفنگ  دی۔

صدر جامعہ  نے اس موقع پر کہا کہ سہولیات کی فراہمی ،  جامعہ کے کیمپس کو خوبصورت بنانا اور یونیورسٹی کی اعلی  تدریسی و تحقیقی  ترقی اولین ترجیحات ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ اس مقصدکے حصول کے لیے ہر ممکن اقدامات کرےگی۔ ڈاکٹر ھذال نے کیمپس میں تعمیراتی منصوبوں کے دورے  کے دوران اس بات پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام تعمیراتی منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل ہوں۔

انہوں نے انجینئرنگ بلاک ، میڈیکل بلاک اور لائبریری کے نئے بننے والے بلاک کے دورہ کے ساتھ ساتھ  شعبہ  ٹرانسپورٹ کا دورہ بھی کیا اور یونٹ میں ورکشاپ اور ٹرانسپورٹ مینجمنٹ کا جائزہ لیا۔

صدر  جامعہ نے میل کیمپس کے ہاسٹلز کے  دورے کے دوران ہدایت کی کہ سیکیورٹی کے معاملات میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے اور  زور دیا کہ کیمروں کی ذریعے  سکیورٹی  کو یقینی بنایا جاے جبکہ ہاسٹل کے باہر کی جانب والے  علاقے  کے جنگلوں پر تار کی تنصیب کا جلد از جلد انتظام کیا جائے۔ انہوں نے ہاسٹلز اور میس میں حفظان صحت کے ماحول اور صفائی کی موجودگی پر بھی زور دیا۔

صدر جامعہ نے  نے خواتین کیمپس میں تعمیراتی کام کا بھی معائنہ کیا جہاں انہیں فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے لیے بنائے جانے والے بلاک کے بارے میں بریفنگ  دی گئی  ۔ انہوں نے یونیورسٹی کی انفراسٹرکچر کی ضروریات کو پورا کرنے کے  کے لیے مختص ایک  بلاک کی تعمیراتی  پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔

صدر جامعہ نے  ان جاری تعمیراتی منصوبوں کے  انجینئرز اور متعلقہ یونیورسٹی افسران کو ہدایت کی کہ کیمپس میں توسیع اور اپ گریڈیشن منصوبوں پر کام کو تیز کیا جائے جبکہ معیار کے ساتھ بھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئے بلاک یونیورسٹی کی فیکلٹیوں کی انفراسٹرکچر  کی ضروریات کو پورا کریں گے  جبکہ لائبریری اور میڈیکل سینٹر کے  نئے  بلاک  بھی قیمتی اضافہ ثابت ہوں  گے ۔ انہوں نے مزید کہا نئے تعمیر کردہ بلاکس لیبارٹری سہولیات کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے ۔

 

عورت کی تعلیم سے پورا معاشرہ سنور جاتا ہے، ڈاکٹر عارف علوی
Published on: August 25th, 2021

ایوان صدر میں دختران پاکستان بیانیہ کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب
صدر پاکستان و چانسلر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر عارف علوی نے دختران پاکستان بیانیہ کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوے کہا ہے کہ عورت کی تعلیم سے پورا معاشرہ سنور جاتا ہے جبکہ مسلم معاشرے میں خواتین کو خاص مقام حاصل ہے، اسلام نے عورت کو اس کے حقوق فراہم کیے۔
صدر پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام میں خواتین کے احترام کی خاص تلقین فرمائی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے تحفظ کیلئے فرد، ریاست اور معاشرہ اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ترقیاتی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہونے کیلئے بلندہمت و حوصلہ ضروری ہے اور اس ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو جلد سزا دی جاے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی و معاشرتی ترقی کیلئے خواتین کی تعلیم کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔
انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی کے خلاف یہ بیانیہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے خواتین کیمپس نے حکومت پاکستان اور اسلامی نظریاتی کونسل کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ تقریب میں خاتون اول، خواتین ارکان پارلیمنٹیرینز سمیت اقلیتوں کے نمائندوں اور جامعہ کے اعلی عہدیداران اور معاشرے کی مشہور شخصیات نے بھی شرکت کی۔
تقریب سے وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نے بھی خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان کے قیام سے خواتین ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ مادر ملت فاطمہ جناح کا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی خواتین کے لیے رول ماڈل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو برائی کو جڑ سے مٹانے کی ذمہ داری لینی چاہیے اور بگاڑ سے نمٹنے کے لییہر فرد کو آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رائے کا احترام، رواداری اور مکالمہ معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنانے کی کنجی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پر تشدد اور منفی رویوں کو روکنے کے لیے میڈیا کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ تقریب سے سمیہ راحیل قاضی نے بھی خطاب کیا جنہوں نے تجویز دی کہ معاشرے میں ویمن اینڈ فیملی مراکز قائم کیے جائیں۔ انہوں نے عورتوں کے حقوق کے فروغ میں حکومت کے کردار کو سراہا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر ر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ایسی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاے جو امن، سلامتی اور ترقی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ کیمپس میں 30 ہزار سے زائد نوجوان زیر تعلیم ہیں اور اس تعداد کا نصف حصہ طالبات پر مشتمل ہے، اس لیے اس بیانیے کی ترویج کے لیے جامعہ بہترین پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی یونیورسٹی اور اس کے ذیلی ادارے اس بیانیے کی ترویج اور آگاہی کے لیے پیش پیش ہوں گی تاکہ پاکستانی خواتین کو ان کے معاشرے میں کردار کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا جا سکے۔۔ ڈاکٹر معصوم نے اس بات پر زور دیا کہ امن و خوشحالی کے حصول کے لیے مکالمے اور کانفرنسیں ضروری ہیں جن میں خواتین کی شرکت لازم اور اہم ہے۔ ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی اور امن کے فروغ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ دختران پاکستان بیانیہ ایک منفرد کتاب ہے جو معاشرے میں امن کی تعمیر اور انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو مستحکم بنانے میں خواتین کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے صدر پاکستان اور اسلامی یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دختران پاکستان بیانیہ خواتین کے بامعنی کردار کے ذریعے معاشرے میں مثبت اثرات کا موجب بنیگا۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں پنجاب کی صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں آشفہ ریاض فتیانہ نے کہا کہ معاشرے کی ترقی اور اس کو مستحکم بنانے میں خواتین کا کردار نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان بیانیے کے ذریعے پنجاب کے شعبہ خواتین نے مختلف طبقات کی خواتین کو ایک با ربط طریقے سے مکالمہ اور آگاہی سے متعلقہ سرگرمیوں میں لایا اور خواتین کے امن میں کردار پر کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے صوبہ بھر میں خواتین کی ترقی کے لیے شعبہ کی جانب سے مکمل کیے گئے کاموں پر روشنی ڈالی اور امید ظاہر کی کہ دختران پاکستان بیانیہ پیغام پاکستان کے مزید تعمیری نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
قبل ازیں،نائب صدر خواتین کیمپس ڈاکٹر فرخندہ ضیا نے کہا کہ دختران پاکستان بیانیہ ایک پیغام ہے کہ خواتین معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے سب سے اہم قوت ہیں اور اس بیانیہ کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کی رونمائی فخر اور خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین امن کی حقیقی پیامبر ہیں، وہ مکالمہ کو فروغ دے کر، رواداری اور برداشت کو عام کرکے آئندہ نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ انہوں نے بیانیے کی تیاری میں یونیورسٹی کے خواتین کیمپس کی سکالرش اور محققین کی کوششوں اور محنت کو بھی سراہا۔

 

آرکائیو