اسلامی یونیورسٹی میں” مبادیات اسلامی، اقتصادیات و مالیات ” کے موضوع پر کتاب کی تقریب رونمائی
Published on: February 14th, 2019

اسلام معاشرے کی فلاح اور تقسیم دولت کا حکم دیتا ہے، ڈاکٹر قبلہ ایاز

اسلام کا اقتصادی نظام عالمی معیشت کا مستقبل ہے، ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی

  اسلامی اقتصادی نظام  افراد معاشرہ کی رہنمائی کرتا ہے، ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی   کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی  نے کہا ہے کہ اسلام کا اقتصادی نظام عالمی معیشت کا مستقبل ہے۔ وہ آج یونیورسٹی سماعت گاہ میں ڈاکٹر حافظ محمد یٰسین اور ڈاکٹر عتیق الظفر خان کی تصنیف Fundamentals of Islamic Economics and Finance (مبادیات اسلامی، اقتصادیات و مالیات ) کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے ۔ یہ کتاب انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے سعودی عرب کے ادارے اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے شائع کی ہے ۔

اس تقریب سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش، رفا ہ انٹر نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر انیس احمد ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز ، اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر فہیم خان، سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے شریعہ ایڈوائزر ڈاکٹر محمد طاہر منصوری ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیزاسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن اور کتاب کے مصنفین ڈاکٹر حافظ محمد یٰسین اور ڈاکٹر عتیق الظفر خان  ڈائریکٹر جنرل انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس نے بھی خطاب کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی اسلامی  یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے تجویز پیش کی کہ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس ، اسلامی نظم معیشیت کے حوالے سے جلد از جلد بین الاقوامی ورکشاپ کا اہتمام کرے  انہوں نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ بین الاقوامی  اسلامی یونیورسٹی، وفاقی شرعی عدالت کے اراکین اور افسران کیلئے  ایک ورکشاپ کا بہت جلد انعقاد کرے گی جس سے وفاقی شرعی عدالت کی اسلامی اقتصادیات کے حوالے سے آنے والے مقدمات کو سمجھنے اور ان پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا ۔انہوں نے شکوہ کیا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو اسلامک فنانس کے حوالے سے سنٹرل آف ایکسلینس کا درجہ نہیں دیا گیا ۔ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اسلامک اکنامکس کے حوالے سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی پوزیشنز کا جلد از جلد اعلان کیا جائے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش نے کتاب کے مصنفین کو مبارک  باددیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور محققین کو اسلامی معیشت کے حوالے سے تحقیق کو آگے بڑھانا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی اقتصادی نظام  افراد معاشرہ کی بھلائی  کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور لوگوں کو سرمایہ حلال طریقے سے کمانے اور خرچ کرنے کے طریقے واضح کرتا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جو اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے ، نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام سرمایہ پرستی اور سرمائے کے ارتکاز کا نام نہیں بلکہ اسلام معاشرے کی فلاح اور تقسیم دولت کا حکم دیتا ہے  انہوں نے کہا کہ اشتراکیت  اورروس کی شکست کے بعد دنیا پر سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ ہے سوائے ترکی اور ملائشیا  کے دنیا  یک قطبی نظام کے تحت کام کر رہی ہے ۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ پاکستان میں رائج تعلیمی نظام کا مقصد آزاد منڈی کی معیشت اور سرمایہ داری کے لئے کارکن فراہم کرنا ہے ۔یہ تعلیمی نظام اسلامی فلاحی معیشت کے لئے کارکن نہیں پیدا کرتا ۔ آج پاکستان کے تعلیمی نظام میں سے ادب اور سماجی علوم کو نکالا جا رہا ہے جب یہ نکل جائیں گے تو آئندہ نسلوں میں سختی اور خشونت پیدا ہوگی ۔

رفاہ انٹر نیشنل یونیورسٹی  کے وائس چانسلر ڈاکٹر انیس احمد نے  کتاب کے مصنفین کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علم کی تخلیق اور تدوین کی اسلامی روایت کو زندہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ  ہم اسلام کی تعلیمات کو دور حاضر  کےمعیارات کے مطابق ڈھالنے کی بجائے اسلام کے زاویہ نظر سے دیکھیں۔

اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ جدہ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد فہیم خان نے کہا کہ اسلامک اکنامکس کے مضمون کو بزنس ، مینجمنٹ سائنسز، پبلک پالیسی اور اقتصادی و سماجی علوم کے تمام کورسوں میں پڑھایا جاناچاہئے۔

سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے شریعہ ایڈوائزر ڈاکٹر محمد طاہر منصوری نے اسلامی اقتصادیات کے نام پر اسلامک بینکنگ کے موجودہ نظا م پر سخت تنقید کی  انہوں نے کہا کہ موجودہ اسلامک بینکنگ کا مقصد سرمایہ کا ارتکاز ہے  اور یہ سرمایہ دارانہ فکر کے دائرہ میں رہ کر کام کررہی ہے جس کا مقصد منافع کمانا ہے اور یہ اسلامی معیشت سے متصادم ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی اقتصادی نظام کے مکمل خدو خال کو واضح کر کے اپنایا جائے ۔ ڈاکٹر طاہر منصوری نے کہا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق اسلامی معاشرے میں امیروں کی دولت پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی محرومین و مستضعفین کا حق ہے ۔

قبل ازیں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن نے انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کتاب کی اشاعت کی غرض و غایت بیان کی اور تقریب میں شرکت  پر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اسلامی اقتصادیات پر تحقیق و اشاعت کے سلسلہ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے درمیان تعاون جاری رہے گا۔

اس موقع پر کتاب کے مصنفین  ڈاکٹر حافظ محمد یٰسین اور ڈاکٹر عتیق الظفر خان نے بھی خطاب کیا ۔

 

 

صدر اسلامی یونیورسٹی سے صومالیہ کی سفیر کی ملاقات، تعلیمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال 
Published on: February 13th, 2019

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش سے پاکستان میں صومالیہ کی سفیر خدیجہ محمود المخزومی نے ان کے دفتر میں ملاقات کی ۔منگل کے روز ہونے والی اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور تعلیم کے میدان میں دو طرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خدیجہ محمود المخزومی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی ایک ایسا عظیم ادارہ ہے جو کہ صومالیہ سمیت عالم اسلام کے نوجوانوں کی بھرپور رہنمائی کے ساتھ ساتھ انہیں اعلیٰ معیاری تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی جدید و قدیم علوم کی تعلیم دینے والا ایک بہترین ادارہ ہے اور صومالیہ کے کئی طلبہ و طالبات جامعہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔اس موقع پر اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے کہا کہ صومالیہ سے ہر سال طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد اسلامی یونیورسٹی کے داخلہ کے عمل میں حصہ لیتی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صومالیہ سمیت جملہ اسلامی ممالک کے طلبہ وطالبات کو بہتر ین سہولیا ت اور اعلیٰ تعلیمی ماحول فراہم کرنا اسلامی یونیورسٹی کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی یونیورسٹی صومالیہ کے تعلیمی اداروں کے ساتھ دو طرفہ تعلیمی تعاون کے فروغ کیلئے پیش پیش رہے گی ۔ 

 

انڈونیشین طلباءکی صدر اسلامی یونیورسٹی سے ملاقات
Published on: February 12th, 2019

 

  صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش سے جامعہ میں زیر تعلیم انڈونیشین طلباءنے پیر کے روز ملاقات کی ۔ نیوکیمپس میں ہونے والی اس ملاقات میں صدر جامعہ نے کہا کہ غیر ملکی طلبہ و طالبات اسلامی یونیورسٹی کا اہم اثاثہ ہیں جبکہ انڈونیشیا سمیت دیگر کئی ممالک کے فارغ التحصیل طلبا و طالبات اہم عہدوں پر فائز ہیں جنھیں جامعہ کے سفراءقرار دیا جا سکتا ہے ۔ ڈاکٹر الدریویش نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی بین الاقوامیت کے وژن پر کام کر رہی ہے اور غیر ملکی طلباءو طالبات کو بہترین اعلیٰ تعلیم کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے طلباءثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کرتے ہیں جو کہ لائق تحسین رویہ ہے ۔ صدر جامعہ نے انڈونیشین طلباءکو بھرپور تعاون اور سہولیات کی بھی یقین دہانی کرائی ۔ ملاقات کے آخر میں انڈونیشین طلباءنے صدر جامعہ کا ملاقات پر شکریہ ادا کیا ۔

 

اسلامی یونیورسٹی میں الفارابی کمپلیکس برائے تحقیق کا افتتاح
Published on: February 7th, 2019

کمپلیکس کے مراکز توانائی، بین المضامین تحقیق اور جدید منصوبوں پر کام کریں گے،

نوجوانوںکی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا اولین ترجیح، معیار تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دیں گے، شفقت محمود

تحقیق کا مقصد صرف مقالے تیار کرنا ، نہیں بلکہ معاشرے کی خدمت ہونا چاہیے، ڈاکٹر معصوم

اسلامی یونیورسٹی بین الاقوامیت کے وژن پر عمل پیرا ہے، ڈاکٹر الدریویش

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں الفارابی کمپلیکس برائے تحقیق کا افتتاح وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کیا جہاں انہوں نے کمپلیکس کے تینوں مراکز بین المضامین سنٹر برائے تحقیق ،انکیوبیشن سنٹر اور اسلامی ترقیاتی بنک کے تعاون سے تیار کردہ سنٹر فار ایڈوانسڈ الیکٹرانکس اینڈ فوٹو ولٹائک انجینئرنگ کا دورہ کیا اور ان مراکز کا افتتاح بھی کیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہی اولین ترجیح ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید اور مستقبل کی ٹیکنالوجی میں مہارت سے ہی کامیابی کے زینوں تک رسائی ممکن ہے اور اس مقصد میں جامعات کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جامعات کو اسلامی یونیورسٹی کے وژن کی پیروی کرنا چاہیے کیونکہ یہاں مختلف مضامین کے ماہرین و محققین کو ایک چھت تلے مسائل کے حل کے لیے اکٹھا کیاگیا ہے جبکہ آئی ڈی بی کی مدد سے تیار کیے گئے سنٹڑ میں توانائی کے مسائل کے حل کرنے پر بھی کام جاری ہے اور یہی مستقبل میں کامیابی کی راہیں ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی وزارت جامعہ کے منصوبوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی مستقبل میں کامیابی کی کنجی ہیں اور اسلامی یونیورسٹی کا یہ کمپلیکس اسی وژن کا عکاس ہے جو معاشرے کی ضروریات اور حالیہ مسائل کے حل کے لیے ایک باقاعدہ تعمیری قدم ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ پاکستانی نظام تدریس میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا تحقیق کا مقصد صرف تحقیقی مقالے تیار کرنا نہیں بلکہ اس کا اثر معاشرے پر نظر آنا چاہیے تاکہ معاشرتی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے ۔ریکٹر جامعہ نے کہا کہ ہمیں مقامی مسائل کا حل خود تلاش کرنا ہو گا، انہی تحقیقی مراکز اور تھنک ٹینکس کے ذریعے نئی جہتوں کی تلاش کرنا ہو گا۔ انہوں نے اپنے عزم کو دوہرایا کہ الفارابی کمپلیکس کے مراکز جلد قومی مسائل کا حل تلاش کرنے والے مراکز میں شمار ہوں گے۔

   تقریب سے صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے بھی خطاب کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ بین الاقوامیت کے وژن پر عمل پیرا ہے اور امت مسلمہ اور خصوصاً پاکستان کے نوجوانوں کو عصر حاضر کی نئی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی سے متعارف کرانے اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے میں سرگرم ہے ۔ انہوں نے یہ کہا کہ جامعہ وزارت تعلیم کی رہنمائی میں جدید منصوبوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے اقدامات جاری رکھے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں جامعہ اور سعودی تعلیمی اداروں کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے کے لیے بھی اقدامات کو تیز کر دیاگیا ہے ۔

اس موقع پر جامعہ کے نائب صدور ، سنٹر فار ایڈوانسڈ الیکٹرانکس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد شجاع سید ، انکیوبیشن سنٹر کے ڈائریکٹرانجینئر احسن مرزا، سنٹر فار انٹر ڈسپلنری ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالحمید اور دیگر متعلقہ عہدیدران بھی موجود تھے۔

 

اسلامی یونیورسٹی:دعوة اکیڈمی کے زیر اہتمام تربیت ائمہ و خطباءپروگرام اختتام پزیر
Published on: January 31st, 2019

تحقیق کے نئے پہلو جاننے کے لیے قرآن مجید سے استفادہ کیا جائے، ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی

 

دعوة اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام 97 واں تربیت ائمہ و خطباءپروگرام اختتام پزیر ہو گیا۔ اس کورس میں ملک بھر کے مختلف علاقوں خیبر پختوانخواہ، بلوچستان، پنجاب، سندھ، اور وزیر ستان کی مساجد میں مامور 25 سے زائد آئمہ و خطباءشریک ہوئے جس کا دورانیہ 3 ماہ تھا۔

کورس کی اختتامی تقریب یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں منعقد ہوئی، تقریب کے مہمان خصوصی جامعہ کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی تھے۔ اس موقع پر دعوہ اکیڈمی کے ڈائیریکٹر جنرل ڈاکٹر سہیل حسن، چیئرپرسن شعبہ تربیت ڈاکٹر شاہد رفیع، انچارج شعبہ تربیت ائمہ ڈاکٹر ظہیر الدین بہرام ، ایسوسی ایٹ کوآرڈینیٹر حافظ محمد ظہیر اور دعوہ اکیڈمی کے دیگر اساتذہ و انتظامیہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی اور سماجی تحقیق کے نئے پہلو جاننے کے لیے قرآن مجید سے استفادہ کیا جائے کیونکہ جملہ علوم کی ماخذ یہی عظیم کتاب ہے ۔ انہوں نے ائمہ پر زور دیا کہ وہ معاشرے کے وہ اہم افراد ہیں جو تفرقہ بازی جیسے مسائل کے خاتمے اور باہمی رواداری کی ترویج میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے آئمہ کورس کے کامیاب انعقاد پر دعوةاکیڈمی کے انتظامات کی تعریف کی ۔ ریکٹر جامعہ نے شرکاءکورس سے مخاطب ہو کر کہا اس پروگرام سے آپ نے اپنے مقتدیوں کے لیے بڑا علمی سرمایہ اکٹھا کیا ہو گا۔ دعوة اکیڈمی کے اس پروگرام دعوت دین کے حوالے سے جو بھی معلوما ت آ ٓپ تک پہنچی ہے وہ آپ حکمت اور بصیرت کے ساتھ اپنے محراب و منبر کے ذریعے دوسروں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارا رہن سہن، گھر اور معاملات دین کے مطابق نہیں ہوں گے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے اور غیر مسلم کو اسلام کی دعوت اسی صورت میں ہی اپنی طرف کھینچے گی جب ہمارا قول و فعل دین کے صحیح تصور کے مطابق ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امت مسلمہ کی اس یونیورسٹی سے بڑی توقعات وابسطہ ہیں ہم دعوت دین کے دائرے کو ملک سے باہر تک لے کر جائیںگے تاکہ وہ یہاں سے تربیت حاصل کر کے اپنے اپنے ممالک میں اس ادارے کے سفیر کے طور پراس کام کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت کے لیے اساتذہ کی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم و تربیت اور اخلاقی قواعد کے ساتھ وہ ایک مختلف استاد ہو گا۔پروگرام کے آخر میں ریکٹر جامعہ نے شرکاءمیں تعلیمی کورس کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے ۔

 

ریکٹراسلامی یونیورسٹی سے معروف سماجی سائنسدان ڈاکٹر سامی شنر کی ملاقات ، مسلم معاشروں میں سماجی علوم کی اہمیت پر تبادلہ خیال
Published on: January 29th, 2019

          ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے ترکی کے معروف سماجی سائنس دان اور عمرانیات کے پروفیسر ڈاکٹر سامی شنر نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ دوران ملاقات مسلم ممالک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کردار اور مسلم معاشروں میں سماجی سائنس دانوں کی اہمیت جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اس موقع پر ڈاکٹر سامی شنر نے ریکٹر جامعہ کو اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے تجربات و مشاہدات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے لاہور ، مردان اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں مختلف سماجی موضوعات پر اپنے خطبات کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔

ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے کہا کہ مسلم معاشروں میں ماہرین سماجی علوم کی اشد ضرورت ہے اور اس شعبہ میں تحقیق جامعات کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ریکٹر جامعہ نے اسلامی یونیورسٹی میں منعقدہ پروفیسر سامی شنر کے سماجی تبدیلیوں اور دور جدید کے معاشروں میں نوجوانان کے کردار پر دیے گئے خطبات کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے ترک پروفیسر کو فیلو شپ کے ذریعے پاکستان مدعو کرنے پر جامعہ کے اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کی بھی تعریف کی ۔ اس ملاقات میں اقبال برائے تحقیق و مکالمہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن الامین بھی شریک تھے۔

 

 

اسلامی یونیورسٹی کی تدریسی کونسل کا اجلاس
Published on: January 28th, 2019

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی تدریسی کونسل کا 75 واں اجلاس فیصل مسجد کیمپس میں ہوا جس کی صدارت صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے کی۔ اجلاس میں تدریسی معاملات ، تحقیقی امور، کلیات سے متعلقہ امور اور دیگر اہم معاملات پر کونسل نے سفارشات جاری کیں۔

ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے دوران اجلاس زور دیا کہ معاشرے سے متعلقہ تحقیق پر خصوصی توجہ دی جاے جبکہ بہترین تدریسی ماحول کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی مسلم دنیا کی اہم درسگاہ ہے جہاں بین الاقوامیت ، اسلام کے پیغام امن کی ترویج پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔

اجلاس میں سابق سینیٹر رزینہ عالم، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر برائے علوم اسلامی ڈاکٹر سعید الرحمن ، جامعہ کے نائب صدور ، ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹرز سمیت شعبہ جات کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ صدر تدریسی امور ڈاکٹر طاہر خلیلی نے اس موقع پر اجلاس کو موجودہ تدریسی سرگرمیوں پر بریفنگ دی اور صدر جامعہ و معزز ممبران کونسل کا اجلاس میں بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔

 

اسلامی یونیورسٹی:دعوة اکیڈمی کے زیر اہتمام خواتین اساتذہ کے لیے اسلامی تربیتی پروگرام اختتام پزیر
Published on: January 4th, 2019

دعوہ مرکز برائے خواتین، دعوة اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام خواتین اساتذہ کا اسلامی تربیتی پروگرام اختتام پزیر ہو گیا۔ اس کورس میںملک کے مختلف حصوں سے 34 خواتین اساتذہ شریک ہوئیں جس کا دورانیہ 14 دن تھا۔

کورس کی اختتامی تقریب یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی جامعہ کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی تھے جبکہ دعوہ اکیڈمی کے ڈائیریکٹر جنرل ڈاکٹر سہیل حسن اوردیگر اساتذہ و انتظامیہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

   ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تربیتی پروگرام کے کامیاب انعقاد پر دعوةاکیڈمی کے انتظامات کی تعریف کی ۔ ریکٹر جامعہ نے شرکاءکورس سے مخاطب ہو کر کر کہا اس پروگرام سے آپ نے اپنے طلباءکے لیے بڑا علمی سرمایہ اکٹھا کیا ہو گا۔ دعوة اکیڈمی کے اس پروگرام کے ذریعے دعوت دین کے حوالے سے جو بھی معلوما ت آٓپ تک پہنچی ہے وہ حکمت اور بصیرت اور درس و تدریس کے ذریعے دوسروں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارا رہن سہن، گھر اور معاملات دین کے مطابق نہیں ہوں گے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے اور غیر مسلم کو اسلام کی دعوت اسی صورت میں ہی اپنی طرف کھینچے گی جب ہمارا قول و فعل دین کے صحیح تصور کے مطابق ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

  انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امت مسلمہ کی اس یونیورسٹی سے بڑی توقعات وابسطہ ہیں ہم دعوت دین کے دائرے کو ملک سے باہر تک لے کر جائیںگے تاکہ وہ یہاں سے تربیت حاصل کر کے اپنے اپنے ممالک میں اس ادارے کے سفیر کے طور پراس کام کو آگے بڑھائیں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت کے لیے اساتذہ کی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم و تربیت اور اخلاقی قواعد کے ساتھ وہ ایک مختلف استاد ہو۔ اسی صورت میں گھروں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی اور معاشرے میں تبدیلیاں نظر آئیں گی۔

پروگرام کے آخر میں ریکٹر جامعہ نے شرکا ءکورس میں تعلیمی کورس کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے ۔

 

اسلامی یونیورسٹی: آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی مجلس عاملہ کی تقریب حلف برداری
Published on: January 3rd, 2019

      بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اووا) کی مجلس عاملہ کی تقریب حلف برداری کا اہتمام جامعہ کے نیو کیمپس میں کیا گیا جس میںوزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی اے، علی نواز اعوان نے عہدیداروں سے حلف لیا ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علی نواز اعوان نے کہا کہ تعلیم و تربیت ہی وہ شعبہ ہے جو قوموںکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتاہے ، ان کا کہناتھا کہ نوجوانوں کی استعداد کار کو بڑھا کر ملکی ترقی کی رفتار کو دگناکیا جا سکتا ہے اور اس ضمن میں جامعات کا کردار اور ذمہ داری نہایت اہم ہے ۔ انہوں نے نو منتخب ممبران کو حلف برداری پر مبارکباد پیش کی جبکہ مہمان خصوصی نے ایسوسی ایشن کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ جامعہ کی ترقی کو مقدم رکھیں۔

   اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے افسران پر زور دیا کہ وہ فرض شناسی اور دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں اسی طرح جامعہ کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے کہ یہاں اتحاد و اتفاق کی فضا کو برقرار رکھا جائے ۔ انہوں نے ایسوسی ایشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مجلس عاملہ کے منتخب اراکین کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ ادارے کی فلاح و ترقی کے لیے مزید عملی اقدامات کریں گے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے نو منتخب افسران کو مبارکباد دی اور اس عزم کو دہرایا کہ جامعہ کے عہدیداروں کو سہولت کی فراہمی اولین ہدف ہے ۔انہوں نے افسران کو جامعہ کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قابلیت قابل تحسین ہے۔ انہوں نے افسران کمیونٹی سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ اس موقع پر صدر اووا سید آصف کمال نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کو یقینی بنائیں گے ۔ انہوں نے آفیسر کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ باہم اختلافات کو دور کر کے جامعہ کی ترقی کو اولین ترجیح سمجھیں۔ اس موقع پر سابق جنرل سیکرٹری اووا رستم خان نے ایسوسی ایشن کی تاریخ اور گزشتہ دو سال کی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔

تقریب میں جن عہدیدران نے حلف لیا ان میں سید آصف کمال بطور صدر اووا، ایاز علی نائب صدر اووا، نوشین سید نائب صدر (خواتین) جنرل سیکرٹری سید نوید اختشام ، جوائنٹ سیکرٹری سید محمد بلال شاہ ، جوائنٹ سیکرٹری خواتین مریم جاوید ، سیکرٹری خزانہ ارسلان خورشید ، کلچرل سیکرٹری اوصاف چوہدری، اور سیکرٹری انفارمیشن نعمان اعوان شامل ہیں۔ دیگر ممبران مجلس عاملہ جنہوں نے حلف لیا ان میں نعمان مشال، علی رافع، ڈاکٹر عطاالرحمن، عدیل اکبر ،جہانزیب وقاص ، عقیل احمد، عامر خان، ڈاکٹر محسن، رفیقہ نازلی ،ڈاکٹر عائشہ عروج، محمد اسماعیل اور شاذیہ سرور شامل ہیں۔

تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی کو خصوصی شیلڈ سے نوازا گیا جبکہ سابق عہدیدران کو بھی اعزازی شیلڈ دی گئیں۔

 

اسلامی یونیورسٹی میں پاکستانیت کے موضوع پر کانفرنس
Published on: December 21st, 2018

حکومت جامع تعلیمی منصوبے پر کام کر رہی ہے ، یکساں نصاب متعارف کرایا جائے گا، وفاقی وزیر تعلیم

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ناخواندگی موجودہ ملکی چیلنجز میں سرفہرست ہے، حکومت ملک میں رائج نظامات تعلیم میں عدم مساوات کے خاتمے کے لیے سرگرم ہے جبکہ حکومت ناخواندگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی پر کام جاری ہے اوریکساں نصاب متعارف کرایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی یونیورسٹی اورسنٹر فار گلوبل اینڈ سٹرٹیجک سٹڈیز کے اشتراک سے فیصل مسجد کیمپس میں منعقدہ ”پاکستانیت“ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ موجودہ نظام تعلیم میں فرق سے اذہان میں تقسیم پیدا ہوتی ہے اور حکومت اس عدم مساوات اور تقسیم کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جامع تعلیمی منصوبے پر کام کر رہی ہے تاکہ ناخواندگی کے مسئلے سے جنگی بنیادوں پر نمٹا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں شرح خواندگی مایوس کن ہے اور گزشتہ سالوں میں یہ حالت اور بھی بدتر ہوئی ہے کہ اعدادو شمار 60 فیصد سے 58 فیصد ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ عشروں میں پاکستان کو دہشت گردی اور نا انصافی جیسے عفریت کا سامنا رہا ہے جس نے ملک کی ترقی پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اب دوبارہ امن و ترقی کی راہ کی طرف گامزن ہے اور اس مقام تک آنے میں کئی قربانیاں دینی پڑیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستانیت خوشی اور غم کو غیر مشروط طور پر حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر بانٹنے کا نام ہے ۔ پاکستان کی انہی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ پاکستان ، افغانستان میں امن چاہتا ہے ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی افواج کے مظالم کی بھی مذمت کی اور کہا کہ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر کے پاکستان کے امن کے لیے اقدامامت پر منفی اثرات ڈال رہا ہے ۔

تقریب سے سنٹر فار گلوبل اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ( ر) ظہیر الاسلام نے خطاب کرتے ہوئے تقریب میں شرکت پر وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام میں تعاون و اشتراک پر اسلامی یونیورسٹی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستانیت اور حب الوطنی کے فروغ کے لیے آئندہ بھی اپنے سنٹر کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے کہا کہ ملک کی 56% نوجوان آبادی ایک بیش قیمت خزانہ ہے۔ ان نوجوانوں کو کاروباری مواقعوں اور نئی ٹیکنالوجی سے متعارف کرانا ہے۔ انہوںنے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی قوت کا مثبت استعمال کر کے تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لیں اور ملک سے محبت کو اولین ترجیح بنائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کے بامعنی کردار کے بغیر یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

تقریب سے صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواندگی اور ترقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور مسلم ممالک کو اتحادامت کے ایجنڈے پر کام کر کے اپنے لیے ترقی کے راستوں کو کھولنا ہو گا۔ ان کاکہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی مسلم دنیا کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ کانفرنس میں مقررین نے نظریہ پاکستان ، معاشی صورتحال اور قوم سازی جیسے موضوعات پر بھی روشنی ڈالی۔

 

آرکائیو