شعبہ تعلقات عامہ اور پاکستان بالعربیہ کے مابین باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط
Published on: February 13th, 2020

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تعلقات عامہ و پروٹوکول اور پاکستان بالعربیہ کے مابین باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیئےگئے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش کے دفتر میں منعقد ہوئی جہاں صدر جامعہ کی موجودگی میں شعبہ تعلقات عامہ کے انچارج ناصر فرید اور پاکستان بالعربیہ کے سربراہ راسخ الکشمیری نے معاہدے پر دستخط کئے-

معاہدے کی رو سے فریقین ذرائع ابلاغ میں تجربات کے تبادلوں سمیت تدریسی پہلوؤں پر دوطرفہ تعاون کے ذریعے توجہ دیں گے اور عربی ادب، پاکستانی معاشرت اور ثقافت سے متعلقہ سیمینار و کانفرنسز کا بھی انعقاد کیا جائیگا.

ٗ معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان بالعربیہ اور جامعہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے اشتراک سےاسلامی یونیورسٹی کے پیغام امن کو  پوری دنیا تک پہنچانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اور دونوں فریق اردو و عربی کے فروغ اور  شدت پسندی جیسے رویوں کی حوصلہ شکنی کے لیے   مشترکہ تدریسی جدوجہد بھی جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر شعبہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز الحسن اور محمد نعمان اعوان بھی موجود تھے.

 

شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد : وفاقی شرعی عدالت کےجج  جسٹس  فدامحمد خان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
Published on: February 6th, 2020

شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام وفاقی شرعی عدالت کےجج  جسٹس  فدامحمد خان کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا,  جس میں عدالت عظمٰی ، عدالت عالیہ اسلام آباد اور وفاقی شرعی عدالت کے   ججز نے  جسٹس فدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا کہ پاکستان میں قوانین کی اسلامائزیشن میں ان کا کردار کلیدی ہے.

پروگرام میں جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان کی بیٹی سمیت ان کے خاندان کے دیگر افراد نے بھی شرکت کی.

مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس فدا محمد خان  اعلیٰ پائے کے جید عالم دین ، قانون دان ،مفکر ، اورعصر حاضرکے بہترین انسان تھے۔  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس محمد نور مسکانزئی نے کہا کہ جسٹس فدا محمد خان بہت بڑے عالم تھے اور ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت ہوتی ہے، انہوں نے مزید  کہا کہ مرحوم فاضل جج انتہائی ملنسار شخصیت تھے۔ اور ہم نے وفاقی شرعی  عدالت میں ان کی اسلامی قانون میں دسترس سے خوب استفادہ کیا۔ پاکستان میں قوانین کی اسلامائزیشن کے میدان میں مرحوم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرفدا محمد خان ایک قد آور شخصیت تھے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت سے ان کابہت طویل رشتہ تھا، سپریم کورٹ میں کبھی بھی  شرعی عدالت کا ذکر ہوتا ہے تو ان کی بات ضرور ہوتی ہے۔انہوں نے بطور خاص اس مقدمے کی تفصیل ذکر کی جس میں انہوں نے بطور وکیل جسٹس فدا محمد خان صاحب کے سامنے دلائل دئیے۔

اس موقع پر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ڈائریکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی نے جسٹس فدا محمد خان کے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور شریعہ اکیڈمی سے درینہ تعلق  کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ اپنی مختلف حیثیتوں میں ہمیشہ نمایاں طور پر علمی سرگرمیوں کی معاونت کرتے رہے۔اسلامی یونیورسٹی  انکی تصنیفات  اور عدالتی فیصلوں کی تدوین کے ساتھ ساتھ ان پر تحقیقات کے عمل کو یقینی بنائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ  نے اپنی گفتگو کا آغاز  بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے تذکرے سے کیا اور کہا کہ مجھے اس یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی میں ہی میری ملاقات جسٹس فدا محمد خان سے اس وقت ہوئی جب وہ بہت جوان تھے ، میں پڑھنے، وکالت کرنے اور جج بننے تک ہمیشہ ان سے رہنمائی لیتا رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس فدا محمد خان کے انتقال سے میرا ذاتی نقصان بہت ہوا ہے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے قائم مقام صدر جناب پروفیسر ڈاکٹر اقدس نوی ملک نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا.

جسٹس ریٹائرڈ شاکر اللہ جان نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی ہم سب کے لیے قابل تقلید زندگی ہے،ان جیسا عالم جج ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس موقع پرڈاکٹر فدا محمد خان کی بیٹی مریم نے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد کی زندگی کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مشیر عالم  نے کہا کہ فاضل جج کے ساتھ گزارے لمحات کو الفاظ میں سمونا ناممکن ہے، وہ چار مرتبہ شرعی عدالت میں بطور عالم جج اور دوبار قائم مقام چیف جسٹس رہے، ان کی وفات سے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ قانونی برادری کا نقصان ہواہے۔انہوں نے تجویز دی کہ شریعہ اکیڈمی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد ’’جسٹس فدا محمد خان‘‘ کے نام سے ایک چئیر قائم کرےاور اس سلسلے میں عدلیہ ان کی مدد کرے گی۔اس موقع پرڈاکٹر فدا محمد خان کی بیٹی نے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد کی زندگی کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا۔

تقریب سے اسلامی یونیورسٹی کے نائب صدر ڈاکٹر محمد منیر، کلیہ شریعہ و قانون کے ڈین ڈاکٹر طاہر حکیم سمیت جسٹس مشیر عالم،  جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس ڈاکٹر خالد مسعود اور  جسٹس یحیٰی آفریدی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور جسٹس فدا کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا.

 

 

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات کا اسلامی یونیورسٹی میں  دختران پاکستان ویژن ورکشاپ سے خطاب
Published on: February 3rd, 2020

اسلامی فلسفہ کو سازش کے تحت کمزوری بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا،اسلام نے عورت کو با اختیار بنایا:ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان  نے کہا  ہے کہا کہ اسلامی فلسفہ کو سازش کے تحت کمزوری بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، اسلام کے پیغام امن و عدم تشدد کو عام کرنے میں میڈیا کا کردار کلیدی ہے،  اسلام کے خلاف پھیلائی گئی غلط فہمیاں دنیا بھر میں سرایت کر گئیں،  اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کے تدارک کے لیے جامع کوششوں کی ضرورت ہے، اسلام کا پیروکار کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا،تشدد اور دہشت گردی نبی مکرم  کی تعلیمات کی نفی ہے جس کا کوئی مسلمان کبھی سوچ ہی نہیں سکتا۔

 

  بدھ کو  بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے  ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام  دختران پاکستان ویژن ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا  جس میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے علاوہ وزیر مملکت براے ترقی نسواں آشفہ ریاض فتیانہ سمیت ریکٹر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی، قائمقام صدر جامعہ ڈاکٹر اقدس نوید ملک، سربراہ ادارہ تحقیقات اسلامی ڈاکٹر محمد ضیاء الحق اور دیگر اہم شخصیات نے  بھی شرکت کی ۔

 

ورکشاپ   سے خطاب کرتے ہوئے   ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان  نے کہا اسلام خواتین  کے حقوق اور پر امن معاشرے کا داعی ہے، اقوام عالم نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سے ہی استفادہ کیا،  اسلام نے عورت کو با اختیار بنایا اور اس کے باقاعدہ حقوق متعین کیے،  اسلام امن، ہم آہنگی اور پرامن بقاے باہمی کا دین ہے،  ہمیں اپنی سمت کا تعین کرنا ہوگا، مغربی یلغار سے مرعوب ہوے بغیر اپنی آنے والے نسلوں کی تربیت اسلامی بیانیے کے تناظر میں کرنا ہوگی، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا  عصری تقاضوں کو  ضرور پورا کیا جاے لیکن اپنی روایات کو نہ چھوڑا جاے، گلوبل ولیج کے دور میں خواتین کا کردار معاشرے میں با معنی اور  تعمیری ہے، تعلیم کے لیے دیہات کی بیٹیوں کی جدوجہد قابل تحسین ہے،ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے مطابقت کی اشد ضرورت ہے، خواتین عصری تقاضوں، ٹیکنالوجی کی تبدیلیوں  سے مطابقت رکھ کر اپنا کردار ملکی ترقی میں ادا کریں،نئے پاکستان میں عورت کا کردار کلیدی ہے جبکہ خواتین معاشرتی و ملکی ترقی کی بنیادی اکائی ہیں، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا پاکستانی خواتین کشمیر کی بیٹوں کی آواز بنیں، دختران کشمیر آج آئینی و  بنیادی حقوق سے محروم ہیں،اسلامی یونیورسٹی کے سکالرز اسلام کے درست امیج کے فروغ مین کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں،اسلامی یونیورسٹی کے سکالرز اسلام کے درست امیج کے فروغ مین کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، اسلامی یونیورسٹی مختلف ممالک کی نمائندگی کا ایک گلدستہ ہے۔ورکشاپ میں حکومت پنجاب کے زیر نگرانی دختران پاکستان  وژن 20ـ21 کیقراردادبھیمنظورکیگئی ۔

ورکشاپمیںاسلامییونیورسٹیکےتیارکردہدختران پاکستان بیانیہ کی قرارداد کی بھی توثیق کی گئی۔ورکشاپ میں اپنے خطاب کے دوران عورتوں کی ترقی کی صوبائی وزیر آشفہ ریاض فتیانہ نے اس بات  پر زور دیا کہ عورت ہی معاشرے کی وہ اکائی ہے جو آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے خلاف منفی پراپیگنڈا کے تدارک اور دہشت گردی کے خلاف خواتین کو مزید بڑھ چڑھ کر  کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں  نے کہا کہ نوجوان راہ راست کی تلاش اور بہترینزندگی کے لیے قرآنی تعلیمات سے راہنمائی حاصل کریں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے  اسلامی یونیورسٹی کی  16 ہزار طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام کے پیغام امن کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا جیسے جدید ذرائع استعمال کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ہی وہ قوت ہیں جن سے امت  مسلمہ  کی امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے اسلامو و فوبیا کے حوالے سے وزیر اعظم کی تقریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے  تمام  مسلمان کی نمائندگی کی

ورکشاپ سے سے نائب صدر خواتین کیمپس ڈاکٹر فرخندہ ضیا نے خطاب میں دختران پاکستان بیانیہ کے اغراض ومقاصد سے آگاہ کیا اور خواتین پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کی عفریت سے چھٹکارا کے لیے ہر پلیٹ فارم پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

قبل ازیں، استقبالیہ خطبہ دیتے ہوے ادارہ تحقیقات اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر محمد ضیا الحق نے ورکشاپ میں شرکت کرنے والے اساتذہ و طلبہ و دیگر شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور مختلف نشستوں کی تفصیلات پیش کین،  انہوں نے پیغام پاکستان بیانیے کے تحت کیے جانے والی اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی

 

 

دعوہ اکیڈمی کے زیر اہتمام 100 ویں تربیتی پروگرام برائے ائمہ وخطباء کا پہلا سیمینار بعنوان دعوت الی اللہ اور علماء واساتذہ کا تربیتی کردار
Published on: January 29th, 2020

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوہ اکیڈمی کے زیر اہتمام 100 ویں تربیتی پروگرام برائے ائمہ وخطباء کا پہلا سیمینار بعنوان “”دعوت الی اللہ اور علماء واساتذہ کا تربیتی کردار” منعقد ہوا جسکی صدارت ڈاکٹر حافظ طاہر محمود، ڈائریکٹر جنرل دعوۃ اکیڈمی نے کی اور مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد طاہر خلیلی، نائب صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی برائے تعلیمی امور تھے۔

مہمان خصوصی ڈاکٹر طاھر خلیلی، نے شرکاء سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ داعی کے لیے ضروری ہے کہ ایک تو وہ اسلام ومسلمانوں کو درپیش جدید چیلنجز کے بارے میں آگاہی رکھتا ہوں دوسرا ان کا سد باب کرنے کیلیے دعوت کے جدید طریقوں سے بھی آگاہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مسلکی اورگروہی اختلافات سےنکل کرالحاد، سیکولرازم اور لبرل ازم ودیگر جدید فکری مسائل کامقابلہ کرنا چاہیے۔

پروگرام میں صدر مجلس ڈاکٹر حافظ طاہر محمود نے خطبہء صدارت پیش کیا جس میں تمام معزز مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور دور حاضر میں دعوت الی اللہ میں بین المسالک ہم آہنگی وراداری کی ضرورت واہمیت اور اس میں مدارس کے کردار پہ روشنی ڈالی.

اس موقع پر اپنے خطبہ میں مولانا تنویر احمد علوی، نائب مدیر جامعہ محمدیہ اسلام آباد نے معاشرہ میں اخلاقی اقدار کے فروغ میں مدارس کے کردار پہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اسلام کی، ۔

پروگرام میں ڈاکٹر ابو الحسن الازہری، نائب مدیر جامعہ محمدیہ غوثیہ بھیرہ سرگودھا نے شرکاء سے “بین المسالک ہم آہنگی ورواداری کے اصول وضوابط” کے عنوان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حسن ظن، قرآنی تعلیمات کا وسیع مطالعہ، مناظرہ کے بجائے مکالمہ، حکیمانہ طرزعمل اورمشترکات کے فروغ سے ہم بین المسالک ہم آہنگی اور رواداری پیدا کرسکتےہیں، انہوں نے مزید کہا کہ قرآن پاک کا جتنا وسیع مطالعہ ہوگا اختلافات اتنے ہی کم ہوں گے۔

حافظ مقصود احمد مدیر جامعہ صوت القرآن اسلام آباد نے شرکاء سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم معاشرے میں مشترکات کو فروغ دیں تو مدارس اور دینی طبقے کے حوالہ سے معاشرے میں پائی جانے والی بدگمانیاں ختم ہوجائیں۔

ڈاکٹر محمد انور، اسسٹنٹ پروفیسر کلیہ شریعہ، نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تربیت ڈگری کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اسلام کی بنیادی اقدار کو شخصیت کا حصہ بنانے کیلیے کرنی چاہیے تاکہ وہ حقیقی مسلمان بنیں، اور اس میں اساتذہ ہی بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

 

 

علم  ترقی کا دروازہ ہے ، ڈاکٹر معصوم
Published on: January 23rd, 2020

  شعبہ تعلیم ملکی خوشحالی کا ضامن ہے،ریکٹر جامعہ کا عالمی یوم تعلیم کے موقع پر پیغام

ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے عالمی یوم تعلیم کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ علم ہی اقتصادی ترقی کا دروازہ ہے ، اس وقت تمام تر نگاہیں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ پر مرکوز ہیں جو نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے ۔ جاری کردہ پیغام میں ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے کہا کہ فی زمانہ ضرورت اس امر کی ہے کہ شعبہ تعلیم اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ خرچ کیا جائےکیونکہ مستقبل میں ترقی کی منازل کو طے کرنے کا یہی وژن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعلی معیاری تعلیم پر صرف کیا گیا سرمایہ ہمیں مستقبل میں کامیابی کی راہوں سے آشکار کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ  ملک کے نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم برداشت اور  صبر والی قوم ہیں، دنیا جان لے کہ ہمارا پیغام محبت، ہم آہنگی، بقاے باہمی ہے۔ اور بھائی چارے کی تبلیغ ہے، انہوں نےکہاکہ    ملک کے 56 ملین جوان ہی وہ قوت ہیں جو مسائلِ کا حل ہے، انہوں نے کہا کہ شارٹ کٹ کی بجاے نوجوانان عصر ی تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر کے ملک میں استحکام اور ترقی کی راہ کو ہموار کریں،
ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے معاشرے میں امن کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور اسلامی یونیورسٹی ابتداء سے ہی نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام کے پیغام امن سے بھی متعارف کراتی ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی بین الثقافتی ماحول کا بہترین نمونہ ہے جہاں کئی ایک ممالک کے طلباء و طالبات تفرقہ بازی سے پاک ماحول میں اعلیٰ معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

 

اسلامی یونیورسٹی: ڈائریکٹر امتحانات  کا یونیورسٹی کے  امتحانی مراکز کا دورہ
Published on: January 15th, 2020

 ڈائریکٹر امتحانا ت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی  انعام الحق کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم نے جامعہ کے میل اور فیمیل کیمپس میں امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور امتحانی عمل   و انتظامات کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر ڈائریکٹر امتحانات کے ہمراہ شعبہ امتحانات  کے افسران جواد شاکر اور  علی رافع بھی موجود تھے۔ دورہ کے موقع پر معائنہ ٹیم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ ڈائریکٹر امتحانات نے ہدایت کی کہ  موسمی  شدت  کے پیش نظر کمرہ امتحان کا درجہ حرارت بہتر رکھا جاے، انہوں  نے نگرانی کے سخت اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے طلباء کو پیش آمدہ مسائل سے آگاہی حاصل کی اور فوری طور پر انہیں حل کرنے کے احکامات  بھی جاری کیے۔

 

عمان کے وزیر مذہبی امور شیخ  عبداللہ بن محمد السالمی کا دورہ اسلامی یونیورسٹی
Published on: January 7th, 2020

عمان کے وزیر مذہبی امور شیخ  عبداللہ بن محمد السالمی نے منگل کے روز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا دورہ   کیا جہاں ان کے اعزاز میں فیصل مسجد کیمپس میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوے شیخ  عبداللہ بن محمد السالمی نے کہا کہ دو طرفہ تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے پر امید ہیں، پاکستان میں جو محبت ملی اس پر مشکور ہوں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی جامعات اتحاد امت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس موقع پر وزیر مذہبی امور نور الحق قادری،عمانی سفیر سمیت  ریکٹر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی، صدر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوے  ڈاکٹر معصوم یاسین زئی  نے کہا کہ جامعہ میں آمد پرعمانی وزیر مذہبی امور کے مشکور ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ عمان کی جامعات اور پاکستانی جامعات کےمابین دو طرفہ تعلیمی تعاون کے خاطر خواہ مواقع موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی اور عمان کی جامعات مل کر جلد ایک، عالمی کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوے ڈاکٹر الدریویش نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی عمانی جامعات کے ساتھ تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے پیش پیش نظر آے گی۔ انہوں نے اس موقع پر اسلامی یونیورسٹی کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوے جامعہ کے کلیات، ذیلی اداروں، وژن اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے گفتگو کی۔

 

 علم ہی اقتصادی ترقی کا دروازہ ہے، ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی
Published on: December 31st, 2019

ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے کہا ہے کہ علم ہی اقتصادی ترقی کا دروازہ ہے ، اس وقت تمام تر نگاہیں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ پر مرکوز ہیں، جو نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دعوہ اکیڈمی اور جامعہ کے اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کے اشتراک سے ترتیب دیے گئے ایک تربیتی پروگرام سے خطاب کے دوران کہی جس میں اقراء ریذینشل کالج کے طلباء نے خصوصی شرکت کی۔ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے کہا کہ فی زمانہ ضرورت اس امر کی ہے کہ شعبہ تعلیم اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ خرچ کیا جائےکیونکہ مستقبل میں ترقی کی منازل کو طے کرنے کا یہی وژن ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ  ملک کے نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم برداشت اور  صبر والی قوم ہیں، دنیا جان لے کہ ہمارا پیغام محبت، ہم آہنگی، بقاے باہمی اور بھائی چارے کی تبلیغ ہے، انہوں نےکہاکہ    ملک کے 56 ملین جوان ہی وہ قوت ہیں جو مسائلِ کا حل ہے، انہوں نے کہا کہ شارٹ کٹ کی بجاے نوجوانان عصر ی تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر کے ملک میں استحکام اور ترقی کی راہ کو ہموار کریں، انہوں نے کہا کہ اعلی معیاری تعلیم پر صرف کیا گیا سرمایہ ہمیں مستقبل میں کامیابی کی راہوں سے آشکار کرے گا۔

ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے معاشرے میں امن کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور اسلامی یونیورسٹی ابتداء سے ہی نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام کے پیغام امن سے بھی متعارف کراتی ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی بین الثقافتی ماحول کا بہترین نمونہ ہے جہاں کئی ایک ممالک کے طلباء و طالبات تفرقہ بازی سے پاک ماحول میں اعلیٰ معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ قبل ازیں اقراء  ریذیڈنشل کالج کے 35 رکنی وفد نے بین االاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر وفد کی ملاقات ڈاکٹر ملاقات ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی سے ہوئی  جنہوں نے طلباء کو اسلامی یونیورسٹی کے تعارف ، وژن ، مقاصد اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے آگاہ کیا ۔ وفد نے اسلامی یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری ، مختلف شعبہ جات  اور بعد ازاں فیصل مسجد  کیمپس کا بھی دورہ کیا۔

 

” قائد اعظم کا پاکستان کے حوالے سے وژن”کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس اختتام پذیر
Published on: December 30th, 2019

نوجوانان پاکستان اعلامیہ کی رونمائی، قائد کی سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹا گیا

ادارہ تحقیقات اسلامی کی طرف سے امن اوایوارڈز دیے گئے

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام  پیغام پاکستان کے نوجوانان پاکستان پراجیکٹ کی روشنی میں ” قائد اعظم کا پاکستان کے حوالے سے وژن”کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس کے موقع پر نوجوانان پاکستان اعلامیے کی رونمائی کی گء جس کی تشکیل مین ملک کے  پچاس ہزار نوجوانوں نے حصہ لیا، اسی موقع پر پیغام پاکستان  نمائش کا بھی اہتمام کیاگیا جہاں قائداعظم کی سالگرہ کے موقع پر خصوصی کیک کاٹا گیا اور مختلف شخصیات کو ادارے کے امن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اسلامی یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں  ہونے والی اس کانفرنس میں اسلامی یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کے علاوہ قائد اعظم یونیورسٹی، ائیر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور، خیبر میڈیکل یونیورسٹی، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی براے خواتین فیصل آباد، قراقرم یونیورسٹی گلگت پاکستان، یونیورسٹی آف گجرات، پیر مہر علی شاہ زرعی بارانی یونیورسٹی راولپنڈی کے طلبا و طالبات اور اساتذہ نے شرکت کی۔

اس موقع پر ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی,صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش, وایس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی وائس چانسلر  علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی  ڈاکٹر ضیاء القیوم، ڈائریکٹر ادارہ تحقیقات اسلامی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر عبدالقدوس زوہیب اور  کانفرنس کے منتظم اعلی اور ادارہ تحقیقات اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر محمد ضیاالحق سمیت رستم خان اور احمد خاور کو خدمات کے اعتراف میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے امن ایوارڈ سے  نوازا گیا۔

کانفرنس کی اختتامی تقریب کیمہمان خصوصی  وفاقی وزیر براے اقتصادی امور حماد اظہر  نے کہا کہ دہشت گردی نے ملکی معیشت اور خوشحالی کو متاثر کیا، انہوں نے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ امن کو عام کیا جاے، ان کا مزید کہنا تھا کہ قائد اعظم  اور اقبال کے وژن کی پیروی ہی نوجوان کو ترقی و کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے. وفاقی وزیر نے کہا کہ اقبال کے پیغام  میں وہ سارے خواص ہین جو آج کے نوجوان مسلم کی شخصیت کے لیے ناگزیر ہیں،حماد اظہر نے امید ظاہر کی کہ نوجوان اس ملک میں امن و استحکام میں کلیدی ادا کرکے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوے ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ راے عامہ اور امن کی ترویج میں جامعات کا کردار کلیدی ہے، ہماری ترجیح نوجوان اور ان کی تعلیم و تربیت ہونی چاہیے کہ اسی میں کامیابی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی اور ادارہ تحقیقات اسلامی کی خدمات اور پیغام پاکستان کی تشکیل مثالی اقدام ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوے ڈاکٹر محمد علی نے اختلاف راے کے آداب اور بقاے باہمی کے رویوں کی معاشرے میں اہمیت پر اظہار خیال کیا. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو وطن کے امیج کو بہتر کرنے کا درس دینا ہوگا،، انہوں نے کہا کہ صبر اور محبت انسانی ہی وہ خصائل ہیں جو معاشروں کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں،  ڈاکٹر محمد علی نے اسلامی یونیورسٹی کی پیغام پاکستان کی تشکیل و ترویج میں خدمات کی بھی تعریف کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم برداشت اور صبر والی قوم ہین، دنیا جان لے کہ ہمارا پیغام محبت، ہم آہنگی، بقاے باہمی اور بھائی چارے کی تبلیغ ہے، انہوں نیکہاکہ ملک کے 56 ملین جوان ہی وہ قوت ہیں جو مسائلِ کا حل ہے، انہوں نے کہا کہ شارٹ کٹ کی بجاے نوجوانان عصر ی تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر کے ملک میں استحکام اور ترقی کی راہ کو ہموار کریں، انہوں نے کہا کہ اعلی معیاری تعلیم پر صرف کیا گیا سرمایہ ہمیں مستقبل میں کامیابی کی راہوں سے آشکار کرے گا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے  ہوے صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے  قائداعظم اور علامہ اقبال کے وژن کی روشنی میں اسلامی یونیورسٹی کے مقاصدو اہداف اور جوانان امت کی تربیت کے لیے اقدامات پر روشنی ڈالی. ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی روز اول سے ہی تعمیر کردار، تشکیل معاشرہ اور  فروغ تعلیمات اسلامی کی ترویج کے لیے مصروف عمل ہے، انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی وحدت امت کی ایک عظیم مثال ہے جہاں مسلم دنیا کے کئی ممالک کے نوجوان اعلیٰ معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں، صدر اسلامی یونیورسٹی نے کہا کہ نوجوان ہی وہ قوت ہیں جن سے امت کی امیدیں جڑی ہیں، انہون نے کہا پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتیں قابل تعریف ہیں،  ڈاکٹر الدریویش نے طلبا پر زور دیا کہ وہ اپنے تشخص کو کبھی مجروح نہ ہونے دیں اور جس بھی ادارے سے منسلک ہوں اس کی ترقی و عزت کے لیے صف اول میں رہیں، انہوں نے کہا طلبہ طالبات و مطالعہ اور تحقیق کا دامن نہ چھوڑیں، نت نئی آنے والی عصری تبدیلیوں سے خود کو  آگاہ رکھیں اور علماء امت سے اپنا رابطہ قائم رکھیں

قبل ازیں، استقبالیہ خطبہ دیتے ہوے ادارہ تحقیقات اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر محمد ضیا الحق نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے اساتذہ و طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوے کانفرنس کے اغراض و مقاصد اور مختلف نشستوں کی تفصیلات پیش کین، انہوں نے بتایا کہ نوجوانان پاکستان کا بیانیہ 50 ہزار طلبا و طالبات کی محنت اور شرکت سے بنایا گیا جس کی باقاعدہ رونمائی آج کی گء. انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت 30 قومی و بین الاقوامی سیمینار اور 12 ورکشاپس کا اہتمام ملک کے کونے کونے میں کیا گیا، انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقا کو بھی خراج تحسین پیش کیا، کانفرنس مین  بین الجامعاتی تقریری مقابلوں اور مباحثوں کا انعقاد بھی کیا گیا اور طلبا و طالبات نے ملی نغمے بھی پیش کیے۔

 

 اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام نوجوانان پاکستان کانفرنس
Published on: December 26th, 2019

قائد اعظم کا پاکستان کے لیے وژن کے موضوع پر صدر جامعہ، ماہرین اور اساتذہ و طلباء کا اظہار خیال

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام  پیغام پاکستان کے نوجوانان پاکستان پراجیکٹ کی روشنی میں” قائد اعظم کا پاکستان کے حوالے سے وژن” کے موضوع پر دو  روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا.

جمعرات کے روز اسلامی یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں شروع ہونے والی اس کانفرنس میں اسلامی یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کے علاوہ قائد اعظم یونیورسٹی، ائیر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور، خیبر میڈیکل یونیورسٹی، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی براے خواتین فیصل آباد، قراقرم یونیورسٹی گلگت پاکستان، یونیورسٹی آف گجرات، پیر مہر علی شاہ زرعی بارانی یونیورسٹی راولپنڈی کے طلبا و طالبات اور اساتذہ نے شرکت کی ۔

کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش تھے جبکہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ تحقیقات اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالقدوس زوہیب نے بطور مہمان اعزاز شرکت کی ۔اس موقع پر انٹر یو یونیورسٹییز کنسورشیم براے سوشل سائنسز   کے معاون مرتضیٰ نور، جامعہ کے نائب صدر انتظامی و مالیاتی امور ڈاکٹر محمد منیر اور  کانفرنس کے منتظم اعلی اور ادارہ تحقیقات اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر محمد ضیاالحق سمیت اسلامی یونیورسٹی کے دیگر اعلی عہدیداران بھی موجود تھے

کانفرنس میں کلیدی خطبہ دیتے ہوے صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے  قائداعظم اور علامہ اقبال کے وژن کی روشنی میں اسلامی یونیورسٹی کے مقاصدو اہداف اور جوانان امت کی تربیت کے لیے اقدامات پر روشنی ڈالی. ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی روز اول سے ہی تعمیر کردار، تشکیل معاشرہ اور  فروغ تعلیمات اسلامی کی ترویج کے لیے مصروف عمل ہے، انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی وحدت امت کی ایک عظیم مثال ہے جہاں مسلم دنیا کے کئی ممالک کے نوجوان اعلیٰ معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں، صدر اسلامی یونیورسٹی نے کہا کہ نوجوان ہی وہ قوت ہیں جن سے امت کی امیدیں جڑی ہیں، انہوں نے کہا پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتیں قابل تعریف ہیں، انہوں نے پاک سعودی تعلقات اور اس ضمن میں نوجوانان کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مسلم دنیا کا فخر ہے، ڈاکٹر الدریویش نے طلبا پر زور دیا کہ وہ اپنے تشخص کو کبھی مجروح نہ ہونے دیں اور جس بھی ادارے سے منسلک ہوں اس کی ترقی و عزت کے لیے صف اول میں رہیں، انہوں نے کہا طلبہ طالبات کو مطالعہ اور تحقیق کا دامن نہ چھوڑیں، نت نئی آنے والی عصری تبدیلیوں سے خود کو  آگاہ رکھیں اور علماء امت سے اپنا رابطہ قائم رکھیں ، آخر میں صدر جامعہ نے کانفرنس کے انعقاد اور پیغام پاکستان میں کلیدی کردار پر ادارہ تحقیقات اسلامی کی  کاوشو‌ں کی تعریف کی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدوس زوہیب نے کہا کہ ملک کا مستقبل نوجوانوں کے  ہاتھ میں ہے جو اساتذہ کی قیادت میں پیغام پاکستان جیسے  منصوبوں کے ذریعے اپنا کرادر ادا کریں، انہوں نے کہا کہ نوجوان انتہا پسندی، دہشت گردی اور  فرقہ واریت کی بیخ کنی کا حصہ بن کر پیغام پاکستان کی روشنی میں اعتدال صبر اور انسانیت سے محبت کا درس دیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانان پاکستان کے بغیر  ملکی ترقی کا خواب  پورا نہیں ہو سکتا، انہوں نے اقبال کے پیغام کی روشنی میں نوجوان کی اہمیت اور قائد اعظم کی نظر میں نوجوان کے کردار پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے  مرتضیٰ نور نے کہا  کہ قائداعظم کا خواب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مبنی معاشرہ تھا یہی وجہ تھی کہ وصیت میں انہوں نے ایک خطیر رقم ملک کے 3 اہم تعلیمی اداروں کے نام کی تھی، انہوں نے کہا کہ  ہمیں بقاے باہمی کے رویے کو پروان چڑھانا ہے اور جامعات کے کنسورشیم کے ذریعے نوجوانوں کو پیغام امن عام کرنے کے لیے بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں گے

ڈاکٹر محمد منیر  نے اپنے خطاب میں  پیغام پاکستان کے آغاز سے لے کر حال تک کی سرگرمیوں کا مختصر خاکہ پیش کرتے ہوے بتایا کہ پیغام پاکستان بیانیہ ایک تاریخی مسودہ ہے جسے عظیم اذہان نے ترتیب دیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ اداہ تحقیقات اسلامی کی کاوشوں اور  علماو مفکرین کی محنت سے آج ہماری امن کی آواز پوری دنیا تک  پہنچ رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد منیر نے قائداعظم کی تقاریر کے اقتباسات  بھی پڑھے۔

قبل ازیں استقبالیہ خطبہ دیتے ہوے ادارہ تحقیقات اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر محمد ضیا الحق نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے اساتذہ و طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوے کانفرنس کے اغراض و مقاصد اور مختلف نشستوں کی تفصیلات پیش کیں، انہوں نے بتایا کہ نوجوانان پاکستان کا بیانیہ 50  ہزار طلبا و طالبات کی محنت اور شرکت سے بنایا گیا جس کی باقاعدہ رونمائی جمعہ کے روز اسی کانفرنس میں کی جاے گی. انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت 30 قومی و بین الاقوامی سیمینار اور 12 ورکشاپس کا اہتمام ملک کے کونے کونے میں کیا گیا، انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقا کو بھی خراج تحسین پیش کیا، اس موقع پر مرتضیٰ نور کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے امن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، پہلے روز تقریب کے بعد بین الجامعاتی تقریری مقابلوں اور  مباحثوں کا نعقاد بھی کیا گیا۔

 

یاد رہے کہ آج بروز جمعہ نوجوانان پاکستان بیانیہ کی تقریب رونمائی اور پیغام پاکستان نمائش کا افتتاح 2 بجے کیا جاے گا جس میں اعلی حکومتی عہدیداروں  سمیت دیگر نامور شخصیات شرکت کریں گی.۔

 

 

آرکائیو