اسلامی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کا اجلاس
Published on: April 30th, 2020

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کا 77واں اجلاس نیو کیمپس میں منعقد ہوا جس میں ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے دفاع کے لیے آن لائن امتحان سمیت، کرونا کی عالمی وبا کے جاری رہنے کی صورت میں یکم جون سے آن لائن کلاسز کے اجرااور گزشتہ اجلاس کے
فیصلوں کی توثیق جیسے امور پر بحث کی گئ
 اجلاس میں صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ اس موقع پر قائم مقام صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر اقدس نوید ملک سمیت جامعہ کے نائب صدور سمیت،ڈینز، ڈائریکٹر تدریسی امور، ڈائریکٹر امتحانات، شعبہ جات کے سربراہان اور دیگر متعلقہ عہدیداروں نے شرکت کی.
دوران اجلاس اس امر کو یقینی بناے کا عزم کیا گیا کہ آن لائن منیجمنٹ سسٹم کو ہر حال میں فعال رکھا جاے گا اور عالمی وباو کے پیش نظر جامعہ کی مزید بندش کے نتیجے میں یکم جون سے آن لائن کلاسز کا اجرا کیا جاے گا. اس موقع پر شعبہ امتحانات نے ڈگری کے دفاع کے لیے مقالات کے آن لائن امتحان کے حوالے سے تفصیلات بارے اجلاس کو آگاہ کیا.
اجلاس میں بتایا گیا جملہ کلیات آن لائن منیجمنٹ سسٹم کے حوالے سے تیاریوں کو یقینی بنارہی ہیں، اس موقع پر جامعہ میں کورونا سے بچاو اور اس کے پھیلاو کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات پر بھی بحث کی گئ. شرکا نے عالمی وبا کے تناظر میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جاری کردہ ہدایات اور پالیسی پر پر عمل پیرا ہونے جیسے موضوعات پر بھی بحث کی.
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوے ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے اس بات پر زور دیا کہ جملہ کلیات میں آن لائن منیجمنٹ سسٹم کے حوالے سے ٹریننگ کو یقینی بنایا جاے اور اس نظام کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اثمار حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیےجائیں. انہوں نے ہدایت کی کہ انتظامیہ اور اساتذہ کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں اور ہرحال میں بلا تعطل تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے پر توجہ دیں. انہوں نے حالیہ وبا میں آن لائن کلاسز اور طلبا کی رہنمائی کے لیے اساتذہ اور انتظامیہ کی کاوشوں کو بھی سراہا.
اس موقع پر ڈاکٹر اقدس نوید ملک اور نائب صدر تدریسی امور پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر خلیلی نے اجلاس میں شرکت پر صدر جامعہ کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کو دوہرایا کہ تعلیمی عمل کو جاری رکھنے اور آن لائن تعلیم کو بہتر سے بہتر بنانے کےلیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے.
 

اسلامی یونیورسٹی 31 مئی تک تدریسی سرگرمیوں کے لیے بند رہے گی 
Published on: March 30th, 2020

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی 31 مئی تک تمام تدریسی سرگرمیوں کےلیے بند رہے گی، اس عرصہ کو گرمیوں کی چھٹیاں تصور کیا جاے گا

یہ فیصلہ کرونا کی جاری عالمی وبا کے دوران ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور وزارت تعلیم کی طرف سےتدریسی امور کے حوالے سے  دی گئ گائید لاینز کی روشنی میں کیا گیا.

کرونا کی عالمی وبا کے تناظر اور اس دوران جامعہ میں تدریسی عمل کے لائحہ عمل پر خصوصی اجلاس پیر کے روز ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی کی قیادت میں منعقد ہوا جس میں صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش (بذریعہ ویڈیوکال) سمیت جامعہ کے نائب صدور، ڈینز، ڈائریکٹرز جنرل اور دیگر متعلقہ عہدیداران نے شرکت کی.

اس موقع پر اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ چھٹیوں کے اس عرصے کے دوران جملہ کلیات لرننگ منیجمنٹ سلوشن میں استعداد کار کی بہتری کے لیے اقدامات کریں گی جبکہ ایک ذیلی کمیٹی اس ضمن میں کلیات وشعبہ جات کی رہنمائی کرتی رہے گی.

اجلاس میں ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ طلبا کی راہنمائی جاری رکھیں کیونکہ ان وقت انتہائی قیمتی ہے، ان کامزید کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی کرونا کی وبا کو ہرانے کے لیے حکومت کی ہر پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے کیے پیش پیش ہوگی

 

 

اسلامی یونیورسٹی: دعوہ اکیڈمی کے زیر اہتمام100واں تربیت ائمہ و خطباءپروگرام اختتام پزیر 
Published on: March 13th, 2020

دعوة اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام 100 واں تربیت ائمہ و خطباءپروگرام اختتام پزیر ہو گیا۔ اس کورس میں خیبر پختوانخواہ، بلوچستان، پنجاب، سندھ،اور ملک کے دیگر علاقوں کی مساجد میں مامور29 آئمہ و خطباءشریک ہوئے جس کا دورانیہ 3 ماہ تھا۔

کورس کی اختتامی تقریب یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں منعقد ہوئی، تقریب کے مہمان خصوصی جامعہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش تھے۔ اس موقع پر دعوہ اکیڈمی کے ڈائیریکٹر جنرل ڈاکٹر طاہر محمود، سربراہ شعبہ تربیت ڈاکٹر شاہد رفیع، کورس انچارج ڈاکٹر حافظ احمد حماد، ایسوسی ایٹ کوارڈینیٹر سید وحید احمد اور دعوہ اکیڈمی کے دیگر اساتذہ و انتظامیہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر الدریویش نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی اور سماجی تحقیق کے نئے پہلو جاننے کے لیے قرآن مجید سے استفادہ کیا جائے کیونکہ جملہ علوم کی ماخذ یہی عظیم کتاب ہے ۔ انہوں نے ائمہ پر زور دیا کہ وہ معاشرے کے وہ اہم افراد ہیں جو تفرقہ بازی جیسے مسائل کے خاتمے اور باہمی رواداری کی ترویج میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے آئمہ کورس کے کامیاب انعقاد پر دعوةاکیڈمی کے انتظامات کی تعریف کی ۔ صدر جامعہ نے شرکاءکورس سے مخاطب ہو کر کہا اس پروگرام سے آپ نے اپنے مقتدیوں کے لیے بڑا علمی سرمایہ اکٹھا کیا ہو گا۔ دعوة اکیڈمی کے اس پروگرام دعوت دین کے حوالے سے جو بھی معلوما ت آ ٓپ تک پہنچی ہیں وہ آپ حکمت اور بصیرت کے ساتھ محراب و منبر کے ذریعے دوسروں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارا رہن سہن، گھر اور معاملات دین کے مطابق نہیں ہوں گے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے اور غیر مسلم کو اسلام کی دعوت اسی صورت میں ہی اپنی طرف کھینچے گی جب ہمارا قول و فعل دین کے صحیح تصور کے مطابق ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امت مسلمہ کی اس یونیورسٹی سے بڑی توقعات وابسطہ ہیں ہم دعوت دین کے دائرے کو ملک سے باہر تک لے کر جائیںگے تاکہ وہ یہاں سے تربیت حاصل کر کے اپنے اپنے ممالک میں اس ادارے کے سفیر کے طور پراس کام کو آگے بڑھائیں اور اس سلسلے میں دعوہ اکیڈمی پہلے ہی اپنی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھا چکی ہے۔

قبل ازیں، ڈی جی دعوہ نے کورس کے مقاصد اور تفصیلات پر گفتگو کرتے ہوے صدر جامعہ کے مسلسل تعاون اور رہنمائی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور مسقبل کے اہداف پر روشنی ڈالی .پروگرام کے آخر میں صدر جامعہ نے شرکاءمیں تکمیلی کورس کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے ۔

 

 

پرائمری سطح تک یکساں نصاب تعلیم تشکیل پا چکا 2021 میں تمام بچے یکساں نصاب پڑھیں گے شفقت محمود
Published on: March 11th, 2020

وفاقی وزیر تعلیم کا اسلامی یونیورسٹی میں یکساں قومی نصاب اور ہمارا نظام تعلیم کے موضوع پر قومی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد :وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہےکہ نظام تعلیم  کے اندر طبقاتی تفریق ہے  جس کے خاتمے اور قوم کو یکجا کرنے کےلیےنصاب کو یکساں کرنا لازم ہے، پرائمری کی سطح تک یکساں نصاب تعلیم تشکیل پا چکا، 2021 میں پرائمری سطح پر تمام بچے یکساں نصاب تعلیم پڑھیں گے.ان خیالات کا اظہار انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ براے تحقیق و مکالمہ کے زیر اہتمام ایک روزہ کانفرنس بعنوان یکساں قومی نصاب اور ہمارا نظام تعلیم کے موضوع پر ایک روزہ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا.۔شفقت محمود نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد نصاب کا مسئلہ صوبائی حکومتوں کے سپرد تھا، اس چیلنج کو حل کرنے کے لیے قومی نصاب کونسل بنائی جس میں تمام اسٹیک ہولڈرزکو شامل کر کے نصاب پر کام شروع کیا جس کے نتیجے میں حکومت پرائمری تک کے نصاب کو تیار کر چکی ہے، اس کے اطلاق کا وقت قریب ہے، انیس  مارچ کو ایک قومی کانفرنس کا انعقاد ہوگا جس میں یکساں نصاب کے اطلاق،زبان کے انتخاب اور دیگر اہم موضوعات پر بحث کی جاے گی۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ کونسل کے تشکیل کردہ نصاب کی روشنی میں نئی کتب، اساتذہ کی تربیت اور دیگر اہم معاملات پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ 2021 میں تمام طبقات کے بچے پرائمری سطح تک ایک ہی نصاب پڑھیں گے.

کانفرنس میں ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی سمیت  انسٹیٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز کے سربراہ خالد رحمان،  جائینٹ  سیکرٹر ی ایجوکیشن محمد رفیق طاہر، معروف عالم دین مولانا زاہد الراشدی، معروف دانشور خورشید ندیم، ڈاکٹر ثمینہ ملک، ذیشان عباسی، ڈاکٹر اکرام الحق یاسین، ذیشان عباسی، ڈاکٹر خالد مسعود، ڈاکٹر شمسہ عزیز اور دیگر نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے بھی شرکت کی۔

خالد رحمان نے اپنے خطاب میں تعلیم اور علم کے ذرائع اور تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوے قومی تعلیمی منظرنامے میں موجود نقائص اور بہتری کے پہلووں پر گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ حب الوطنی، مثبت سوچ، پروفیشنلزم، دینی تعلیمات پر عمل اور قانون کی بالادستی ایسے پہلو ہیں جن کو تعلیم کے ذریعےنوجوانان امت کی شخصیات کا حصہ بنایا جائے

ریکٹر جامعہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے اپنے خطاب میں امید ظاہر کی کہ تعلیم کے حوالے سے حکومتی وژن اور واضح پالیسی کامیابی کی ضمانت ہے.انہوں نے مزید کہا کہ نظام تعلیم  کی نئی جہتوں کے حوالے سے اتفاق راے کی ضرورت ہے، یکساں نصاب  تعلیم ایک اہم اقدام ہے، ان کامزید کہنا تھا کہ یہ اقدام  ملکی اتحاد  کی طرف لے کر جاے گا. ڈاکٹر معصوم کا کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی ادارہ تحقیق و مکالمہ کے ذریعے ایسے قومی نوعیت کے موضوعات پر پروگراموں کا انعقاد جاری رکھے گی. انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی مدارس کے طلبا اور دینی و عصری تعلیم  دینے والے اداروں کو بھی ساتھ ملا کر  ملکر کام کرنے کے منصوبوں پر کام کرنے کی خواہاں ہے.

اس موقع پر رفیق طاہر نے یکساں نصاب تعلیم، منہج و پیشرفت کے موضوع پر خطبہ دیا جس میں انہوں نے وزارت تعلیم کی یکساں نصاب کے لیے کامیابیوں، اقدامات اور اس کی تشکیل کے مراحل کے حوالے سے تفصیلاً آگاہ کیا.

اس کانفرنس میں شرکاء نے برصغیر میں یکساں نصاب تعلیم ، نصاب تعلیم اور اقلیتیں، یکساں نصاب تعلیم اور تربیت اساتذہ سمیت دیگر کئی ایک موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا.

 

اسلامی یونیورسٹی میں انگریزی اردو اور چین زبانوں کے کورسز میں داخلوں کا اعلان
Published on: March 4th, 2020

فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 14 مارچ

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے کلیہ زبان و ادب کے جدید زبانوں کے مرکز(سمل) نے انگریزی ، اردو اور چائینی زبانوں کے ڈپلومہ ، سرٹیفکیٹ اور قلیل مدتی کورسز کے لیے داخلوں کا اعلان کر دیا جس کے لیے درخواست جمع کرانی کی آخری تاریخ 14 مارچ 2020ہے۔

تفصیلات کے مطابق جدید زبانوں کے اس مرکز میں انگریزی کے 6 ماہ دورانیے کے ڈپلومہ کورس کے علاوہ 3 ماہ کے سرٹیفکیٹ کے لیے درخواستیں لی جا رہی ہیں جبکہ IELTS ، GMAT ، OET کی تیاری کرانے کے کورسز میں بھی داخلہ جاری ہے ۔ اسی طرح سیاحت ، وکالت، تخلیقی طرز تحریر اور دیگر کئی ایک موضوعات کے لیے ایک ماہ دورانیہ کے کورسز کے لیے بھی درخواستین جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ اس مرکز میں اردو کے ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ کورسز کے لیے بھی داخلے شروع کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف چینی زبان میں دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات کے لیے بھی ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ کورسز میں داخلوں کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ مرد امیدوار فیس اور درخواست جمع کرانے کے حوالے سے تفصیلات کے لیے   92579161اور خواتین امیدوار 9257922 پر کال کر سکتے ہیں۔

 

 

رزق حلال زندگی میں برکت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ڈاکٹر الدریویش
Published on: March 3rd, 2020

صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے کہاہے کہ زندگیوں میں برکت کا سب سے بڑا ذریعہ رزق حلال ہے، محنت اور ایمانداری ایسے خصوصیات ہیں جو دینی اور دنیاوی ترقی کی ضمانت ہیں۔

یہ بات انہوں نے منگل کے روز اسلامی یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریشن بلاک کے دورے کے دوران کہی۔ انہوں نے بلاک میں موجود مختلف دفاتر کا دورہ کرتے ہوئے وہاں فرائض کی سرانجام دہی کا جائزہ لیاور افسران وملازمین سے پیش آنے والے مسائل کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ انہوں نے متعلقہ شعبہ جات اور عہدیداروں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ ملازمین کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں تاکہ وہ اپنے فرائض درست طریقے سے نبھا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتظامی امور کے افسران و ملازمین مزید محنت اور لگن سے کا م کر کے اسلامی یونیورسٹی کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے۔ اس موقع پر صدر جامعہ کے ہمراہ نائب صدر تدریسی امور ڈاکٹر محمد طاہر خلیلی ، ڈائریکٹر تدریسی امور سید نوید احتشام اور شعبہ فنانس سمیت دیگر اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔

 

 

اسلامی یونیورسٹی دنیا کی بہترین 250 جامعات میں شامل
Published on: February 27th, 2020

پاکستان کی بہترین جامعات میں تیسرا نمبر، بین الاقوامی طلباءو طالبات کیٹگری میں سرفہرست

 

    بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے دنیا کی بہترین 250 جامعات کی فہرست میں اپنی جگہ بنا لی جبکہ مجموعی طور پر جامعہ پاکستان میں بہترین جامعات کی فہرست میں تیسرے نمبر پرآئی ہے، اسی رینکنگ کی طلباءو طالبات کے تناسب اور بین الاقوامی طلباءو طالبات کی کیٹگری میں اسلامی یونیورسٹی 8فیصد کی واضح پوزیشن کے ساتھ سرفہرست ہے۔

یہ رینکنگ برطانوی ادارے ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ضمن میں سال 2020 کے لیے جاری کی ہے ، جس میں 47 ممالک کی بہترین جامعات میں یونیورسٹی نے 201-250 کی کیٹگری میں جگہ بنا لی ۔ اسی رینکنگ کی بین الاقوامی تاثر کی کیٹگری میں جامعہ پاکستان میں دوسرے اور سائٹیشن کی کیٹگری میں تیسرے نمبرپررہی۔ اس رینکنگ میں تدریس ، تحقیق ، علم کی منتقلی ، بین الاقومی تاثر اور دیگر کئی پہلووؤں کو دیکھ کر فہرست جاری کی گئی ہے۔

 

 اسلامی یونیورسٹی میں کانفرنس براے بین العقائد مکالمہ و قومی ہم آہنگی  کا انعقاد
Published on: February 24th, 2020

 سائبان پاکستان بیانیہ کی رونمائی

حکومت امن و امان کی ترویج اور مذہبی عقائد کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے، اسد قیصر

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس براے بین العقائد مکالمہ و قومی ہم آہنگی میں سائبان پاکستان بیانیہ کی رونمائی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوے کہا  ہے کہ حکومت امن و امان کی ترویج اور مذہبی عقائد کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے ،موجود حکومت ریاست مدینہ کے ماڈل کی پیروی کر رہی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ پیغام پاکستان بیانیہ کی دنیا بھر میں تعریف ہوئی اور  یہ ملک کی نیک نامی کا باعث بنا، اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کے حقوق کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے جبکہ  سائبان پاکستان بیانیے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق اور اس کانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں قومی اسمبلی میں بحث کی جاے  گی، سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا ایوانوں اور جامعات میں ایسے مکالمے دو رس نتائج لا سکتے ہیں، جامعات تحقیق پر توجہ دیں، شعبہ تدریس ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور سب کو مل کر اس ملک کو بھنور سے نکالنا ہے

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام  بین الاقوامی کانفرنس براے بین العقائد مکالمہ قومی ہم آہنگی میں سائبان پاکستان بیانیہ کی رونمائی کر دی گئ جس میں  شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا داعی ہے،  معاشرے کو ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت ہے، پیغام پاکستان بیانیے میں اقلیتوں کا کردار قابل تعریف ہے، باہمی برداشت و مکالمہ کی ترویج اور پیغام پاکستان بیانیہ کی ترویج کے لیے سوشل میڈیا سمیت جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا جاے

اس تقریب کا انعقاد قازقستان کےنذر بایئوف مرکز براے بین العقائد ہم آہنگی و مکالمہ بورڈ کے اشتراک سے کیا گیا تھا جس کے چیئر مین آلتے ابیبوالیوف نے اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ  مکالمہ ہی عالمی مسائل کا حل ہے اور حالیہ عالمی منظر نامے پر نظر دوڑائی جاے تو اس کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے،   ان کا کہنا تھا کہ مکالمہ کو عام کرنے کے لیے دوطرفہ کاوشیں کامیاب ہوں گی اور اس ضمن میں سب سے اہم قوت طلبا  ہیں، انہوں نے  کہا کہ آج ہی پاک قازقستان 28 سالہ تعلقات کا یوم تاسیس ہے اور اس موقع پر دونوں ممالک کی جانب سے امن کے لیے یہ کاوش و تقریب اور بھی اہم ہو گئی ہے.   ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک تاریخی اور مذہبی اعتبار سے مضبوط دوستی کے متحمل ممالک ہیں.  . آلتے ابیبوالیوف کا کہنا تھا کہ  بین المذہب ہم آہنگی موجودہ  قازق حکومت کی اولین ترجیح ہے.

کانفرنس میں  خطاب کرتے ہوے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پیغام پاکستان بیانیہ کی خوبصورتی بین المذاہب و عقائد ہم آہنگی اور امن کی ترویج ہے، انہوں نے کہا کہ تشدد اور دہشتگردی کا پاکستانی معاشرے سے کوئی تعلق نہیں. سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ نوجوان قلم اور کتاب کے ساتھ رشتہ قائم رکھیں،   پیغام پاکستان کی اشاعت و ترویج کے لیے نوجوان سوشل میڈیا کا استعمال کریں،

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے پیغام پاکستان بیانیہ اور اس کے مختلف منصوبوں پر روشنی ڈالی، انہون نے کہا کہ اسلام  صبر، حلم اور سلامتی کا دین ہے، اسی دین نے بتایا کہ انسانو‌ں کے حقوق پامال نہ کیے جائیں چاہے  ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، ڈاکٹر معصوم نے وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا حوالہ دیتے ہوے کہا کہ دنیا سے مکالمہ کرتے ہوے یہی ہمارا منشور ہونا چاہیے اور ایسے ہی اپنا کیس لڑنا چاہیے جیسا وزیراعظم نے لڑا

اس موقع پر  اظہار خیال کرتے ہوے صدر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے کہا کہ   اسلامی تعلیمات یہی ہیں کہ انسانیت کی عزت کی جاے ، امتوں کے درمیان اختلاف کا مطلب جنگ و جدل نہیں بلکہ باہمی برداشت  کی ضرور ہے، انہوں نے کہا کہ انسان کی حرمت کے تقدس کو پامال نہ کیا جانا چاہیے. صدر جامعہ کا کہنا تھا کہ اسلام  محبت، رحمدلی  کا دین ہے، ہم تشدد کی حوصلہ  شکنی اور ترویج امن کی  حوصلہ افزائی کرنے والے لوگ ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر عطااللہ شاہ, وائس چانسلر قراقرم یونیورسٹی،  سربراہ کرسچین سٹڈی سنٹر، جینیفر جگ جیون  پیٹر جیکب،  سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پاکستان انسٹی ٹیوٹ براے  پارلیمانی  امور ظفر اللہ خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا

قبل ازیں، سربراہ ادارہ تحقیقات اسلامی، ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے کہا کہ پیغام پاکستان بیانیہ کو امام کعبہ سمیت 600 سے زائد علما کی تائید حاصل ہے،  ان کا کہنا تھا کہ پیغام پاکستان کے مختلف منصوبے  نوجوانان پاکستان،  پاکستان ، دختران پاکستان کے نام سے بیانیہ کی روشنیی میںکام کر رہے ہیں،

 

اسلامی یونیورسٹی میں   سائبان پاکستان بین الاقوامی کانفرنس براے بین العقائد مکالمہ و قومی ہم آہنگی  پیر  24 فروری  کو منعقد ہو گی
Published on: February 22nd, 2020

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام   سائبان پاکستان بین الاقوامی کانفرنس براے بین العقائد مکالمہ و قومی ہم آہنگی  پیر   24  فروری

 کو فیصل مسجد میں منعقد ہو گی ۔ کانفرنس کا آغاز صبح10 بجے ہو گا  جس میں گورنر پنجاب  محمد سرور، چیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی، قزاقستان کےنذر بایئوف مرکز براے بین العقائد ہم آہنگی و مکالمہ کے بورڈ کے چیئر مین آلتے ابیبوالیوف ، ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یاسین زئی،صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش اور معاشرے کی دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔

 

 

شعبہ تعلقات عامہ اور پاکستان بالعربیہ کے مابین باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط
Published on: February 13th, 2020

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تعلقات عامہ و پروٹوکول اور پاکستان بالعربیہ کے مابین باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیئےگئے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش کے دفتر میں منعقد ہوئی جہاں صدر جامعہ کی موجودگی میں شعبہ تعلقات عامہ کے انچارج ناصر فرید اور پاکستان بالعربیہ کے سربراہ راسخ الکشمیری نے معاہدے پر دستخط کئے-

معاہدے کی رو سے فریقین ذرائع ابلاغ میں تجربات کے تبادلوں سمیت تدریسی پہلوؤں پر دوطرفہ تعاون کے ذریعے توجہ دیں گے اور عربی ادب، پاکستانی معاشرت اور ثقافت سے متعلقہ سیمینار و کانفرنسز کا بھی انعقاد کیا جائیگا.

ٗ معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان بالعربیہ اور جامعہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے اشتراک سےاسلامی یونیورسٹی کے پیغام امن کو  پوری دنیا تک پہنچانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اور دونوں فریق اردو و عربی کے فروغ اور  شدت پسندی جیسے رویوں کی حوصلہ شکنی کے لیے   مشترکہ تدریسی جدوجہد بھی جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر شعبہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز الحسن اور محمد نعمان اعوان بھی موجود تھے.

 

آرکائیو