انڈونیشیا کی ائیر لنگا یونیورسٹی کے وفد کا دورہ اسلامی یونیورسٹی
Published on: September 19th, 2018

 

دونوں جامعات کے دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

  بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور انڈونیشیا کی ائیرلنگا یونیورسٹی نے وفود کے تبادلوں ، تدریسی معیار کی بہتری اور مشترکہ تحقیق کے منصوبوں کے اجراءپر اتفاق کیا ہے ۔ منگل کے روز ائیر لنگا یونیورسٹی کے 9 رکنی وفد نے اسلای یونیورسٹی کے نیو کیمپس کا دورہ کیا اور جامعہ کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی ، صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش ، جامعہ کے نائب صدور ، ڈینز، ڈائریکٹر جنرلز، شعبہ جات کے سربراہان اور اکیڈمک سٹاف سے ملاقات کی۔

اجلاس میں سمسٹر سطح پر پروگراموں کے تبادلوں اور ایک عارضی دستاویز پر دستخط کیے، جسے باقاعدہ باہمی تعاون کے معاہدے کی توثیق کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں کو بھیجا جائے گا۔ وفد نے جامعہ کے اساتذہ و طلباءکے ساتھ معلوماتی نشستیں بھی کیں جن میں یونیورسٹی آف ائیر لنگا میں ڈگری اور ڈپلومہ پروگراموں بارے آگاہ کیا گیا۔

  وفد کے ایک رکن شعبہ میڈیا کے سربراہ ڈاکٹر عرفان و حیودی نے نے کہا کہ اس دورے کے دوران ائیر لنگامیں سکالرشپس ، مشترکہ تعاون کے منصوبوں اور تحقیق کے فروغ کے اقدامات کو زیر بحث لا رہے ہیں اور حالیہ دورہ کوانتہائی تعمیری قرار دیا۔

وفد نے دو طرفہ تعاون کے ضمن میں جامعہ کے دورے کو انتہائی اہم قرار دیا۔ ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے اپنے خطاب میں مسلم دنیا پر زور دیا کہ ان کی جامعات کو بین المالک ڈگری پروگراموں کے اجراءپر توجہ دینا ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی مسائل کے مقامی حل نکالنے ہوں گے۔ انہوں نے جامعہ کی غیر ملکی جامعات کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں بارے تفصیلی بریفنگ دی۔

  ڈاکٹر احمد الدریویش نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ دو طرفہ تعاون کے منصوبوں پر خاص توجہ دے رہی ہے اور حال ہی میں انٹرنیشنل جامعات کے ساتھ ایسے معاہدے کیے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جامعہ سے فارغ التحصیل انڈونیشیا کے طلباءوہاں بہترین پوزیشنز پر ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعہ اسلام کے پیغام امن کے فروغ کے لیے کاوشیں جاری رکھے گی۔

اس موقع پر فیکلٹی آف سوشل سائنسز کی ڈین ڈاکٹر ثمینہ ملک نے وفد کو خوش آمدید کہا اور فیکلٹی کے حوالے سے بریف کیا۔ بعد ازاں فیکلٹی آف سوشل سائنسز کا دورہ کیا اور وہاں شعبہ بین الاقوامی تعلقات ، میڈیا اور سوشیالوجی کے لیکچرز میں شرکت کی۔

 

اسلامی یونیورسٹی کے وفدکی نور الحق قادری سے ملاقات،دینی تعلیم و پیغام امن کے فروغ پر تبادلہ خیال
Published on: September 17th, 2018


بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی  کے اعلی سطح کے وفد نے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری سے ملاقات کی جس میں دینی تعلیم کے امور اور اسلام کے پیغام  امن کے فروغ میں جامعات کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

پیر کے روز  ہونے والی اس ملاقات میں وفاقی وزیر نے مسلم دنیا کے لیے اسلامی یونیورسٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کو اسلامی اقدار سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔انہوں نے مذہبی تعلیم اوروزارت سے متعلقہ کسی بھی شعبے میں جامعہ کے ساتھ تعاون کی بھر پور یقین دہانی بھی کرائی۔

جامعہ کے وفدنے وزیر مذہبی امور کونئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے جامعہ کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی اور اس کی موجودہ  تدریسی  اور معاشرے میں بہتری سے متعلقہ سرگرمیوں  بارے آگاہ کیا۔ اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر اور صدر کا کہنا تھا کہ عصر حاضر میں شدت پسندی جیسے چیلنجزسے نمٹنے میں  جامعات کا کردار کلیدی ہے اور اسی وژن کے ساتھ جامعہ نے پیغام پاکستان بیانیے جیسے اقدامات پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

 

صدر اسلامی یونیورسٹی سے کرغستان کے سفیر کی ملاقات ،دو طرفہ تعلیمی تعاون پر تبادلہ خیال
Published on: September 17th, 2018

 

صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش سے کرغستان کے سفیر ایرک بیشم بیف نے ان کے دفتر میں ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلیمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔

     ملاقات میں صدر جامعہ اور کرغستان کے سفیر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دو طرفہ تعلیمی تعلقات میں وسعت کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ کرغستان کے سفیر نے دوران ملاقات اسلامی یونیورسٹی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور خواہش ظاہر کی کہ اسلامی یونیورسٹی کرغستان کی جامعات کے ساتھ تعلیمی منصوبوں پر کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اورکرغستان کے تعلقات مثالی ہیں۔ سفیر نے پیغام امن کی ترویج میں اسلامی یونیورسٹی کے کردار اور امت مسلمہ کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے کاوشوں پر ڈاکٹر الدریویش کی تعریف کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر الدریویش نے سفیر کو اسلامی یونیورسٹی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور انہیں حالیہ پیغام پاکستان بیانیہ سمیت کئی ایک اہم کانفرنسز اور دیگر تعلیمی و تعمیری سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔

صدر جامعہ نے اس عزم کو دہرایا کہ عصر حاضر کے چیلنجز کے حل کی تلاش کے لیے جامعہ پوری دنیا کی جامعات کے ساتھ تعاون و اشتراک کی خواہاںہے جبکہ اسلامی یونیورسٹی اسلام کے پیغام امن و اعتدال کی اشاعت و ترویج کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ اس ملاقات میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز اور ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضیا ءالحق بھی شریک تھے۔

 

 

 

 

خواتین کو ملکی ترقی میں حصہ لینے کے برابر مواقع فراہم کیے جا ئیں، ڈاکٹر الدریویش
Published on: September 13th, 2018

 

صدر جامعہ کا خواتین کیمپس میں استقبالیہ تقریب سے خطاب

 

 صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خواتین کو ملکی ترقی میں حصہ لینے کے برابر مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں اور اس ضمن میں درسگاہوں کا کردار کلیدی ہے ۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز یہاں جامعہ کے خواتین کیمپس میں شعبہ اردو کے زیر اہتمام یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے والی نئی طالبات کے لیے منعقدہ ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ ڈاکٹر الدریویش نے کہا کہ وہ قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی جو نوجوانوں کو اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع مہیا نہ کرے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی یونیورسٹی کی طالبات معاشرے میں بامعنی تبدیلی کا موجب بنیں گی کیونکہ یہاں انہیں اسلامی تعلیمات و روایات سے مزین بہترین تعلیمی ماحول دیا جاتا ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے جامعہ کی انتظامیہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ رواں سمسٹر کے لیے 85000 سے زائد طلبہ و طالبات کی درخواستیں اس بات کی غماز ہیں کہ پاکستانی قوم اور امت مسلمہ اس یونیورسٹی سے گہری امیدیں وابستہ رکھتے ہیں اور یہ امر ہمارے لیے باعث اعزاز ہے ۔

تقریب سے شعبہ اردو کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے خطاب کے دوران طالبات کو خوش آمدید کہا اوران کی حوصلہ افزائی پر صدر جامعہ کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے شریک طالبات کو جامعہ کی روایات اور اقدار کے حوالے سے آگاہ کیا ، انہوں نے شعبہ اردو میں طرز تدریس کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔ تقریب میں خواتین کیمپس کی نائب صدر ڈاکٹر فرخندہ ضیاء، تدریسی امور کے نائب صدر ڈاکٹر طاہر خلیلی اور خواتین فیکلٹی ممبران سمیت طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دریں اثنا ڈاکٹر الدریویش نے میل کیمپس میں کلیہ سوشل سائنس اور فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا بھی دورہ کیا اور وہاں نئے سمسٹر کے آغاز کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا۔

 

 

اسلامی یونیورسٹی کے وفد کی ڈاکٹر طارق بنوری سے ملاقات، مسلم ممالک کی جامعات کے مابین تعاون پر تبادلہ خیال
Published on: September 11th, 2018

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اعلیٰ سطحی وفد نے ریکٹر و صدر جامعہ کی قیادت میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری سے ملاقات کی جس میں مسلم ممالک کی جامعات کے مابین مربوط تعاون اور اسلامی سربراہی کانفرنس کے ذریعے تعلیمی میدان میں نئے منصوبوں کے اجراءکے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔اسلامی یونیورسٹی کے وفد میں ریکٹر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی ، صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش ، نائب صدر ڈاکٹر اقدس نوید ملک، ڈاکٹر محمد منیر اور ڈاکٹر طاہر خلیلی شریک تھے

ڈاکٹر طارق بنوری نے ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش کی آمد اور یونیورسٹی کے دورے کی دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹیوں کو با اختیار اور خود مختار بنایا جائے، اور اچھی کارکردگی کی حامل یونیورسٹی کی مدد سے چھوٹی یونیورسٹیوں کی معاونت کر کے تعلیمی میدان میں ترقی کے نئے باب کھولے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عزم ہے کہ یونیورسٹی کے اسکالرز نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک خاص کر اسلامی ممالک میں تعلیمی معیار کی ترقی کیلئے کام کریں۔

ریکٹر و صدر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا اسلامی یونیورسٹی کے ساتھ ہمیشہ خیر سگالی کا رشتہ رہا ہے اور ڈاکٹر طارق کی سربراہی میں اس میں مزید اضافہ ہو گا جو نہ صرف پاکستان بلکہ امت اسلامیہ کی تعلیمی میدان میں ترقی کا باعث بنے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی اسلامی ممالک کی جامعات کے سربراہان کو ایک جگہ اکٹھا کرنے اور ایک اور روڈ میپ کی تشکیل میں پل کا کردار ادا کرے گی۔

 

 

اسلامی یونیورسٹی میں توانائی کے موضوع پر کانفرنس
Published on: September 10th, 2018

 

توانائی کے قابل تجدید وسائل پر توجہ کی اشد ضرورت ہے ، صرف حیاتیاتی ایندھن پر انحصار درست نہیں: ماہرین

ٓآنے والی نسلوں کے وسائل کو بچانا ہو گا، توانائی وسائل کے استعمال میں توازن کی ضرورت ہے : ڈاکٹر انصر پرویز

جامعات اور متعقلہ وزارتوں کے مابین ربط حکومت کی ترجیح ہے، صداقت عباسی

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام توانائی کی پیداوار کے نظام اور توانائی کے قابل تجدید وسائل کے موضوع پر منعقدہ چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے موجودہ بحران کے حل کے لیے مقامی اور قابل تجدید وسائل کو بروئے کارلانا ہو گا جبکہ صرف اور صرف حیاتیاتی ایندھن کے استعمال کی روش کو ترک کرنا ہو گا۔ اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ مکنیکل انجیئنرنگ کے زیر اہتمام 3 روز کانفرنس پیر کے رو ز یہاں فیصل مسجد کیمپس میںشروع ہوئی جس میں ماہرین ، اساتذہ و محققین نے ہائیڈرو پاور وسائل کے ذریعے توانائی کی پیداوار، شمسی توانائی کے پیداواری طریقے، حیاتیاتی ایندھن اور جوہری توانائی جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر انصر پرویز نے کہا کہ ہمیں توانائی کی پیداوار کے وسائل اس طرح استعمال میں لانے چاہئیں کہ آنے والی نسلوں کے وسائل پر اثر نہ پڑے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ توانائی کے جملہ وسائل کے استعمال میں توازن کی ضرورت ہے کسی بھی ایک ذریعہ پر انحصار کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے دنیا کے جوہری پلانٹس میں ہونے والے حادثات اور اس توانائی کے حوالے خدشات بارے بھی شرکاءکو آگاہ کیا جبکہ ڈاکٹر انصر نے ونڈ پاور، ہائیڈرو پاور اور سولر پاور پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے قابل تجدید وسائل پر توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی صداقت علی عباسی نے کہا کہ نئی حکومت جامعات اور متعلقہ وزارتوں کے مابین ایک مربوط نظام کے لیے کام کر رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیق پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور معاشرتی مسائل کا حل دینے والے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے اسلامی یونیورسٹی میں گزرے دور طالبعلمی کوبھی یاد کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعہ کے ہر شعبہ کو بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔

ریکٹر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے مقامی مسائل کا حل مقامی سطح پر ڈھونڈنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت توانائی کے بحران کا شکار ہے اور متعلقہ اداروں کو کو چاہیے کہ وہ ملک میں موجود 800 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی ، جوہری توانائی کے وسائل اور پورا سال موجود رہنے والی دھوپ جیسے وسائل کو بروئے کار لائیں۔ ان کا مزید کہناتھا کہ قابل تجدید وسائل کو چھوڑ کر حیاتیانی ایندھن کے وسائل کی طرف بڑھنا درست حکمت عملی نہیں۔ انہوں نے تحقیق کے بعد شروع کیے جانے والے منصوبوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی نے اسلامی ترقیاتی بنک کے تعاون سے جدید آلات سے مزین خصوصی مرکز برائے ایڈوانسڈ الیکٹروانکس اینڈ فوٹو ولٹیک انجیئنرنگ کا قیام عمل میں لایا ہے جو شمسی توانائی کے ضمن میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

صدر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہ مسلم دنیا کو عصری ٹیکنالوجی کو اپنا کر اپنے وسائل کو امت مسلمہ کے لیے استعمال کرنا ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی یونیورسٹی عصر حاضر کے مسائل اور ان کے حل کے وژن کو لے کر آگے چل رہی ہے اور مستقبل میں اس جیسی دیگر کانفرنس و اجتماعات بھی اس ضمن میں عمل میں آئین گے اس موقع پر انہوں نے جامعہ کے سعودی جامعات اور اسلامی ترقیاتی بنک کے ساتھ تعاون کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ قبل ازین ڈین کلیہ انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی ڈاکٹر محمد عامر نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بارے آگاہ کیا جبکہ اس موقع پر شعبہ مکینکل انجینئرنگ کے چیئرمین ڈاکٹر سعید بادشاہ ، نائب صدور جامعہ ڈاکٹر محمد طاہر خلیلی ، ڈاکٹر اقدس نوید ملک، ڈاکٹر فرخندہ ضیاءسمیت فیکلٹی ممبران ، طلباءو طالبات اور متعلقہ عہدیدران نے بھی شرکت کی۔

 

 

پی۔ایچ ۔ڈی مقالے کاکامیاب دفاع
Published on: September 7th, 2018

شعبۂ اردو،کلیۂ زبان و ادب ، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی ،اسلام آباد کی سکالر ناہید ناز  نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی زیر نگرانی  کامیابی سے اپنے پی۔ایچ ۔ڈی کے مقالے کا دفاع کر لیا ہے  ،جس کا عنوان ’’انیس ناگی کے افسانوی ادب میں جدیدیت کی عکاسی:تحقیق و تنقید‘‘ ہے۔

ان کے مقالے کے بیرونی ممتحنین  ڈاکٹر نذیر تبسم(شعبۂ اردو ،یونی ورسٹی آف پشاور،پشاور) اور ڈاکٹر خالد سنجرانی (شعبۂ اردو،جی۔سی۔یونی ورسٹی،لاہور) تھے جب کہ انٹرنل ایگزامینر کے فرائض ڈاکٹر عزیز ابن الحسن صدر شعبہ اردو(حضرات)] نے انجام دیے ۔

 

 

 

اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقاتی اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار
Published on: September 7th, 2018

 

اسلام کے خلاف پراپیگنڈ گھناؤنی ساز ش ہے، تدرارک کے لیے تعلیمی اداروں اور علماءسے استفادہ کیا جائے ڈاکٹر محمد مھنَّا

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی (IRI) کے زیر اہتمام” معاشرے میںامن کی ترویج میں علماءکا کردار اور پیغام پاکستان“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے شرکاءنے مسلم معاشروں پر زور دیا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں اور علماءکے باہمی تعاون سے اسلام کے خلاف منفی پراپیگنڈا کے تدراک کے لیے جامعہ حکمت عملی وضع کریں۔

سیمینار کے مہمان خصوصی شیخ جامعة الازہر مصر کے مشیر ڈاکٹر محمد مھنَّا تھے جن کا کہنا تھا کہ اسلام کے خلاف پراپیگنڈا ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو کہ اسلام دشمن عناصر نے یتار کر رکھی ہے اور وہ اسلام کے پیغام امن بخوبی واقف ہیں ۔ ان کا مزید کہناتھا کہ اسلام محبت ، امن اور بردباری کا دین ہے اور اس کے درست تاثر اور ان سچی تعلیمات کو دنیا کے کونے کونے تک عام کرنے میں علماءکا کردار کلیدی ہے ۔ انہوں نے پیغام پاکستان بیانیے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ الازہر اس بیانیے کی بھرپور تائید کرتی ہے اور پاکستان کے علماءکی اس کاوش کو عام کرنا چاہیے ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے پیغام پاکستان کی تیاری میں علماءکی مثالی خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ اس بیانیے کی گونج اب اقوام متحدہ تک ہے ۔ انہوں نے جامعہ اور اس کے ذیلی ادارے ادارہ تحقیقات اسلامی کے بیانیے کی تشکیل و ترویج میں کاشوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی ۔ انہوں نے بھرپور تعاون پر جامعہ الازہر کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مصری اساتذہ جامعہ کا اہم اثاثہ ہیں ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضیاءالحق نے سیمینار کے اغراض و مقاصد اور معاشرے میں علماءکے کردار پر بھی روشنی ڈالی ۔

 

  قبل ازیں ڈاکٹر مھنَّا کی ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی اور صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش کے ساتھ ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلیمی تعاون کو وسعت دینے اور اسلامی یونیورسٹی اور جامعہ الازہر کے تعلقات و مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ بعدازاں ڈاکٹر مھنَّا نے فیصل مسجد میں نماز جمعہ کی امامت بھی کی۔

 

 

اسلامی یونیورسٹی میں سی پیک اورعالمی میڈیا کے موضوع پر کانفرنسشروع
Published on: August 17th, 2018

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام پاک چائینہ اقتصادری راہداری اور عالمی میڈیا کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بدھ کے روز یہاں فیصل مسجد کیمپس میں شروع ہوئی جس کی افتتاحی تقریب میں نیپال ، یمن، ملائشیااور دیگر کئی ایک ممالک کے سفراء ، سفارت کاروں اور کئی ایک ممالک کے ماہرین تعلیم ، محققین و میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی اور اسلام فوبیا، چین اور مسلم دنیا کے تعلقات ، سی پیک کے ثمرات اور اس بابت مستقبل کی تیاریوں جیسے موضوعات پر بحث و تبادلہ خیال کیا۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں ینگھی فاؤنڈیشن سی ای او ،ہائی یوما نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے اثمار صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ دو طرفہ تعاون سے دونوں ممالک ایک دوسرے کی ثقافت کے ذریعے اور بھی قریب آئیں گے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ذریعے مختلف خطوں کے درمیان حائل خلا پر کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز کے ذریعے چین اور مسلم دنیا کے مابین باہمی تبادلہ خیال کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی کا کہنا تھا کہ سی پیک نہ صرف اقتصادی خوشخالی کا ضامن ہے بلکہ یہ مشرق اور مغرب کو آپس میں ملانے کا موجب بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانوں کو نفرت کی تاریخ مٹانی ہو گی اور قوموں کو دشمنیاں ختم کر کے ایک دوسرے کو سمجھنا ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے کئی حصوں میں اسلام کے حوالے سے غلط فہمیاں موجود ہیں اور میڈیا کے ذریعے ان تک اسلام کا اصل پیغام پہنچانا ہو گا جو کہ تشدد نہیں بلکہ خلوص اور امن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے لیے مسلم دنیا تک نئی راہیں کھولنے کا ایک نیا دروازہ ثابت ہو گا۔
صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک چائینہ اقتصادی راہداری (سی پیک) باہمی اقتصادی تعاون کے ذریعے ایشیائی ممالک کو مغرب سے جوڑے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک بہت سے عناصرکو کھٹک رہا ہے اور وہ اس پر اثر انداز ہونے کی آئے روز مذموم کوشش کرتے رہتے ہیں۔ صدر جامعہ نے کہا کہ ماس میڈیا اس پراجیکٹ کے ذریعے ترقی پزیر اور ترقی یافتہ دنیا کے مابین ایک باربط رشتہ قائم کرنے کی اہمیت رکھتا ہے ۔ ان کامزید کہنا تھا کہ اس وقت مذہبی تناؤ اور ممالک کے مابین عصبیت و دشمنی کے رویوں کو سی پیک منصوبے کے ذریعے کم کرکے دنیا کو خوشحال بنانے کا بہترین موقع ہے ۔
تقریب میں اسلامی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کی ڈین ڈاکٹر ثمینہ ملک نے شرکاء کانفرنس کو خوش آمدید کہا اور اسلام کے خلاف جاری پراپیگنڈا اور میڈیا کے کردار پر بھی گفتگو کی۔
پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال سربراہ شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن نے تعارفی خطبے میں کہا کہ یہ سائنس و ٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن کا دور ہے جہاں ہمیں روایتی اسلوب سے ہٹ کر سوچنا ہو گا۔ عصر حاضر کا اہم مسئلہ دہشت گردی ہے ۔ جس نے ترقی کے خیموں میں اکھاڑ پچھاڑپید اکر رکھی ہے جبکہ اس تدارک میں میڈیا کا کردار کلیدی ہے ۔ انہوں نے اسلام کے خلاف منفی پراپیگنڈا پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔انہوں نے پاک چین تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کانفرنس کا مقصد اس دو طرفہ تعاون میں میڈیا کے کردار کے حوالے دانشمندانہ رویے اپنانا اور تشدد کے خلاف میڈیا کے کردار پر بحث کرنا ہے ۔ ڈاکٹر ظفر اقبال نے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تخلیقی میڈیا پالیسیوں اور سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی اظہار خیال کیا۔ یہ کانفرنس جمعہ کے روز اختتام پزیر ہو گی۔

 

اسلامی یونیورسٹی میں شجر کاری مہم، 1335 پودے لگائے گئے
Published on: August 13th, 2018

 

مہم اسلامی یونیورسٹی اور سنٹورس مال کے اشتراک سے چلائی گئی

    بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور سنٹورس مال کے باہمی تعاون سے” سرسبز پاکستان کے لیے ایک کاوش “ کے عنوان سے شجر کاری مہم سوموار کے روز یہاں یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں شروع ہو گئی جس میں کل 1335 پودے لگائے گئے۔

تفصیلات کے مطابق شجر کاری مہم میں زیتون ، سکھ چین ، چیل اور السٹونیا کے 1335 پودے لگائے گئے۔ اس موقع پر جنرل منیجر سنٹورس عرفان الحق ، ریکٹر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی ، صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش ، جامعہ کے اعلیٰ عہدیدران ، فیکلٹی ممبران اور سنٹورس ٹیم کے ارکان نے پودے لگائے۔

اسی حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عرفان الحق کا کہنا تھاکہ پودے مستقبل میں ہمارے ماحول کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے اسلامی یونیورسٹی کی معاشرے کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے کردار کے پیش نظر یہ شجر کاری مہم یونیورسٹی کے ساتھ شروع کی گئی۔ انہوں نے سنٹورس مال کے مالک اور وزیر زراعت سردار تنویر الیاس کا پیغام بھی شرکاءکوپہنچایا جس میں انہوں نے کہا کہ ملک کو شجر کاری کی اشد ضرورت ہے اور تعلیمی اداروں کا کردار اس ضمن میں کلیدی ہے ۔

   تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر معصوم یسین زئی نے کہا کہ شجر کاری مہم کا فیصلہ ان کی سردار تنویر سے گزشتہ ملاقات میں دونوں اداروں نے کیا تھا جو کہ ایک انتہائی تعمیری سرگرمی ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کو اپنا درست کردار ادا کرتے ہوئے معاشرتی مسائل کے حل کی طرف آنا چاہیے۔

      صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے مہم کے لیے پودوں کی فراہمی پر سردار تنویر الیاس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مستقبل میں یہ درخت ایک تعمیری تعاون کی بہترین مثال ثابت ہوں گے۔

 

 

 

آرکائیو