اسلامی یونیورسٹی میں سپورٹس گالا کا افتتاح

 

کرکٹ ، ہاکی، والی بال سمیت درجنوں کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا،

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے میل کیمپس میںسالانہ سپورٹس گالا2018 کا افتتاح بدھ کے روز ہوا جس کاافتتاح ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی اور صدر جامعہ ڈاکٹراحمد یوسف الدریویش نے کیا۔

تفصیلات کے مطابق سپورٹس گالا سرگرمیوں کا آغاز جامعہ کے فٹ بال گراونڈ میں ہوا جہاں تمام فیکلٹیز کی ٹیموں نے مارچ پاسٹ کا مظاہرہ کیا اور حلف برداری میں حصہ لیا۔ اس موقع پر مشیر طلباءڈاکٹرطارق جاوید سمیت جامعہ کے نائب صدور، ڈینز ، ڈائریکٹرز اور ملازمین و طلبا کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔سپورٹس گالا کے دوران ہر سال جامعہ کے سینکڑوں طلباءکرکٹ، ہاکی، ریس، باسکٹ بال، والی بال اور دیگر کئی مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔

        اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں اور تعلیم کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان تعمیری سرگرمیوں میںحصہ لیں تاکہ وہ منفی عناصر کی طرف سے شروع کی گئی سرگرمیوں سے دور رہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور اس میں مثبت سرگرمیوں کے انعقاد پر زور دیا۔ انہوں نے منتظمین پر زور دیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کے انعقاد میں اضافہ کریں۔

تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر الدریویش نے کہاکہ کھیل کے شعبہ میں نمایاں رہنے کے لیے یونیورسٹی وژن میں شامل ہے کہ ایک بین الاقوامی طرز کا سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ میں مختلف ممالک کے طلباءو طالبات زیر تعلیم ہیں۔ انہیں کھیلوں اور تعلیم کی نمایاں سہولیات کا فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امت مسلمہ کے معمار ہیں اور نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں میں مصروف رکھنا بھی اہم اقدام ہے جس پر جامعہ خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ صدر جامعہ نے طلباءپر زور دیا کہ وہ ملک کی ترقی کو اولین مقصد سمجھیں کیونکہ پاکستان کی ترقی امت مسلمہ کی ترقی ہے۔ اس موقع پر فیکلٹی ممبران اور یونیورسٹی سٹاف کیٹگری میں 100 میٹر دوڑ کے مقابلوں کے علاوہ طلباءمیں بوری ریس، تھری لیگ ریس ، فرسٹ ایڈ ریس کے مقابلوں کا بھی انعقاد کیا گیا ۔

قبل ازیں، اپنے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹرطارق جاوید نے کہاکہ کھیلوں کی سرگرمیاں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی نصابی سرگرمیاں جبکہ ان کا دفتر اور جامعہ کی انتظامیہ طلباءکو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ آخر میں جیتنے والے کھلاڑیوں نے صدر جامعہ سے ملاقات کی جن کو اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا۔