اسلامی یونیورسٹی کی شریعہ اکیڈمی کے زیر اہتمام اسلام اور بین الاقوامی قانون انسانیت کورس کا آغاز

کورس سے سربراہ آئی ی آر سی اور ریکٹر اسلامی یونیورسٹی کا خطاب

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی شریعہ اکیڈمی کے زیر اہتمام اسلام اور بین الاقوامی قانون انسانیت کے موضوع پر منعقدہ 4 روزہ علاقائی تربیتی کورس ایک مقامی ہوٹل میں شروع ہوا۔

اکیڈمی نے اس کورس کا انعقاد بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) کے اشتراک سے کیا ہے جس میں افغانستان  اور بنگلہ دیش کے شرکاء کے علاوہ ملک بھر سے تمام صوبوں سے اسلامی سکالرز نے شرکت کی۔

پروگرام کے  افتتاحی خطاب میں آئی سی آر سی کی سربراہ  پاکستان  ،ڈریگانہ کوچک، نے کہا کہ ان کا ادارہ 15 سال سے پاکستانی اداروں کے ساتھ مل کر ایسے پروگرام اور تربیتی کورس کا انعقاد کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات اور بین الاقوامی قانون میں مماثلت  ہے۔ اسلامی اداروں اور آئی سی آر سی پاکستان کے مشترکہ مقاصد ہیں جن میں اولین ترجیح انسانیت کی خدمت ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ  جنگ میں سول افراد کے قوانین سمیت مختلف موضوعات قابل بحث ہیں جن پر چار روزہ کورس میں روشنی ڈالی جائے گی ۔ انہوں نے قدرتی آفات کے موقع پر اپنے ادارے کی خدمات کا ذکر کیا  ۔

کورس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے کہا کہ دین  اسلام  میں قوانین انسانی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاہم اسلام وہ دین ہے جس میں معاشرے کے ہر فرد کے حقوق کو اہمیت دی گئی ہے۔ عصر حاضر کے بین الاقوامی معاہدات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر معصوم نے کہا کہ یہ کورس جینوا کنونشن کےمعاہدات اور اسلامی قوانین کا موازنہ کرنے کا بہترین موقع ہے ۔ حکومتیں جب انسانی قوانین کا تحفظ نہ کریں تو سانحات برپا ہو تے ہیں۔ اس کی واضح مثال بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیریوں کے حقوق کو سلب کیا جانا ہے ۔ ریکٹر جامعہ کا کہنا تھا  کہ آج اقوام عالم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطہ کشمیر میں  پستے ہوئے انسانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں ۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ اس  کورس کے نتائج  کا اسلامی معاشروں میں اطلاق  یقینی بنایا جائے۔شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مشتاق نے کورس کے تعارف ،نکات اور اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔