بین الاقوامی کانفرنس بعنوان
حلال غذاء : قواعد و ضوابط ،  جدید صورتیں اور شرعی احکام

24-25 October, 2017

باہتمام
کلیہ شریعہ و قانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، پاکستان
باشتراک
مجمع الفقہ الاسلامی جدۃ، سعودی عرب
و
ہائر ایجوکیشن کمیشن  پاکستان

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا تعارف

  1. بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد 1980ء بمطابق 1400ھ میں قائم ہوئی۔
  2. 1985ء بمطابق 1405ھ میں اسے قانونی طور پر بین الاقوامی حیثیت عطا کی گئی، جس کے بعد وہ پاکستانی آئین کے تحت انتظامی طور پر مستقل ادارے کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔
  3. پاکستانی آئین کے تحت پاکستان کے صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔ عالمِ اسلام کی جامعات کے اتحاد کے انتظامی بورڈ کے صدر اور امام محمد بن سعود، اسلامی یونیورسٹی ریاض کے وائس چانسلر،  ڈاکٹر سلیمان عبداللہ ابا الخیل بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے پرووائس چانسلر ہیں، جب کہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش اس کے موجودہ صدر ہیں۔
  4. بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا بورڈ آف ٹرسٹیز،   عالم اسلام کی چوالیس معروف شخصیات پر مشتمل ہے۔
  5. فی الحال بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد 9 فیکیلٹیز ، 42 شعبہ جات اور 6 اکیڈیمیز  ومراکز پر مشتمل ہے اور 131 تعلیمی پروگراموں میں دنیا کے پچاس سے زائد ممالک سے آنے والے 30 ہزار کے قریب طلبہ و طالبات کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہی ہے۔
  6. دارالحکومت اسلام آباد میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو تقریباً ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل وسیع رقبہ عطا کیا گیا ہے، تاکہ وہاں یونیورسٹی کا مستقل کیمپس تعمیر کیا جا سکے۔ اس کیمپس کی تعمیر کا پہلا مرحلہ پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔
  7. بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ایک کامیاب تہذیبی منصوبہ ہے۔ رقبے  اور دستور کے لحاظ سے پاکستانی یونیورسٹیوں میں امتیازی مقام کی حامل اس یونیورسٹی میں دنیا بھر کے علمی تخصصات اور شعبہ جات کا انتظام کرنے کا سوچا جا رہا ہے، تاکہ یہ یونیورسٹی باصلاحیت اہل علم  کی کھیپ تیار کرنے، صلاحیتوں کو نکھارنے اور ترقی دینے، علمی تحقیق کی حوصلہ افزائی اور اس میں امتیازی مقام حاصل کرنے اور اقوامِ عالم میں امت مسلمہ کا مقام بلند کرنے اور انسانی معاشرے میں بحیثیت مجموعی  مثبت طور پر حصہ لینے کے لئے ان تمام امور اور اسلام کی اصلی تعلیمات و اقدار کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھر پور کردار ادا کر سکے۔

کانفرنس کا تعارف

الحمد للہ  والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ ﷺ وآلہ وصحبہ أجمعین ۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے انسان کی بدنی اورعقلی صحت کے پیش نظر اشیائے خوردونوش میں پاکیزہ چیزوں کو حلال ومباح جبکہ ناپسندیدہ اور مضر چیزوں کو حرام قراردیا۔اسی لیے ائمہ مجتہدین نے ہر دور میں کھانے کی چیزوں کے احکامات بیان کرنے میں بڑی عرق ریزی سے کام لیا۔ موجودہ دور میں ماکولات ومشروبات سے متعلق حالات واحکام ایک جدید رخ اختیارکرچکے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ایگری کلچر اور بیالوجی کے میدان میں غیر معمولی ترقی اورنئے تجربات ہیں۔ اور اشیاء خوردونوش کا بآسانی ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کیے جانے سے بھی اس میدان میں نئے احکام اور حالات پیدا کردئیے ہیں۔
دوسری جانب حلال اشیاء کی مارکیٹ عالمی طور پر بڑی مارکیٹ کی شکل اختیارکرچکی ہے جہاں اسلامی اورغیراسلامی ممالک بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ تجارت تین کھرب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔اس لئے کانفرنس میں اس موضوع کے مختلف پہلو اور جدید صورتوں پر بحث ناگزیرہے۔ اس سے قبل بھی اس موضو ع پر کئی سیمینا رز اور کانفرنسز ہو چکی ہیں اور اس حوالے سے نئی تحقیقات بھی شائع  ہوچکی ہیں تاہم چند جدید پیش آمدہ  حالات کی بنا پر اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسی طرح وطن عزیر پاکستان جوکہ اس کانفرنس کی مہمان نوازی بھی کررہاہے ۔ اس بات کازیادہ متمنی ہے کہ یہاں کانفرنس کی جائے کیونکہ ہمارے ہاں اس موضوع پر کوئی بین الاقوامی  کانفرنس منعقد نہیں ہوئی۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی  اسلام آباد ، اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت کی قیادت کرنے والے اداروں میں ایک اہم ترین ادارہ ہے جواسلامی قانون وقضا سمیت دیگر علوم کوفروغ دینے میں علمی طور پر بنیاد ی کرداراداکرہا ہے ۔اسی لئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی  اسلام آباد کی فیکلٹی شریعہ و قانون نے مجمع الفقہ الاسلامی  جدۃ کے اشتراک اور ہائر ایجوکیشن کمیشن  پاکستان کے تعاون سے عالمی کانفرنس کے قیام کا فیصلہ کیاہے ۔مجمع الفقہ الاسلامی جدۃ کے مشورہ سے کانفرنس کا نام  "حلال غذاء : قواعد و ضوابط ،  جدید صورتیں اور شرعی احکام" تجویزکیا گیاہے۔دعاہے کہ اللہ جل وعلا  اس  کانفرنس کو ہم سب کے لئے فائدہ مند بنائے۔

 

کانفرنس کے  مقاصد

  1. حلال غذاء کی شرعی اورعلمی تعریف اور اس کے لیے قوانین اورشرعی قواعد طے کرنا نیزفنی معیارات اوران کا شرعی حکم بیان کرنا۔
  2. علمی، عملی اور صنعتی طور پر غذاء سے متعلق نئے حالات و جدید صورتوں کاجائزہ لینا۔
  3. غذاء تیار کرنے کے نئے طریقے اور اشیاء خورد ونوش سے گندگی، جراثیم  دور کرنے کے مختلف طریقوں کا بیان اوران سے استفادہ کا بیان۔
  4. حلال غذاء سے متعلق معلومات اور تحقیقی مواد پاکستان میں موجود مختلف قانونی اور شرعی اداروں کومہیاکرنا تاکہ وہ حلال غذاء کے بارے میں ضروری قانون سازی کر سکیں ۔
  5. عوام وخواص سمیت اہل تجارت کو حلال غذاء کوضائع کرنے ،تیار کرنے یا اسکی تجارت کے احکام سے آگاہ کرنا۔
  6. اسلامی احکام کے مطابق حلال غذاء کے لیے اقدامات و تجاویز پیش کرنا۔

کانفرنس کے محاور

محور اول :         حلال غذا سے متعلق  شرعی ضوابط

1- اشیائے خورد و نوش میں اصل حلت ہے یا حرمت ؟
2- مأ کولات و مشروبات میں حرمت کے اسبا ب

  1. خباثت و نجاست
  2. ضرر
  3. نشہ
  4. کرامت انسانی

3- حلال گوشت کی شرائط و صفات

  1.  گوشت کے حلال ہونے سے متعلق شروط
  2. ذبح کے مختلف طریقے و شرعی احکام
  3.  ذابح  کی صفات و شروط

4- گوشت کے علاوہ دیگر حلال مطعومات سے متعلق احکام
5- حلا ل غذا کے انتاج کے متعلق  شرعی احکام  اور قواعد و ضوابط

محور دوم: غذائی  مصنوعات  کی جدیدصورتیں اور ان کے معاصر مسائل

1- انقلاب ماہیت / استحالہ اور اس سے متعلقہ احکام
2-ذبح اور اسکی جدید صورتیں : مشینی ذبیحہ ، بجلی کے کرنٹ اور  جھٹکے سےذبح کرنا ، ذبح سے قبل جانور کو بے ہوش کرنا وغیرہ
3- غیر مسلم ممالک سے درآمد شدہ گوشت  کاحکم
4- جینیاتی  طور پر تبدیل شدہ جانوروں کے  گوشت کاحکم
5- جینیاتی طور پرتبدیل شدہ دیگر غذاوں کے احکام   
6- حیوانی اجزاء سے حاصل کردہ  Preservatives  / غذا کو محفوظ رکھنے والے مختلف کیمیائی مواد   کا شرعی تجزیہ اور حکم
7- مخلوط النسل – مختلف جینز اور بیضہ کے ملاپ سے پیدا شدہ-  جانور اور ان  کے اجزاء کے احکام
8- بری اور دریائی جانوروں کے لئے تیارہونے والی  خوراک( پولٹری فیڈ اور فش فیڈ وغیرہ )   کی اقسام اور ان کا شرعی جائزہ
9-  حلال و حرام جانوروں کی کھالوں کی دباغت  کی مروجہ صورتیں اور انکے احکام
10- حلا ل غذاسے متعلق بین الاقوامی  مجامع فقہیہ – فقہ اکیڈیمیز- کی طرف سے جاری کردہ قراردادوں و سفارشات کا جائزہ
11- زرعی پیداوار کے لئے  ناپاک کھاد،فیکٹریوں اور گھروں کےمستعمل پانی  کا استعمال اور اسکے اثرات
12- جیلیٹین  کی  حقیقت اور  مختلف استعمالات
13-الکحل  کا بطور غذا اور بطور دوا  استعمال
14- غذائی مصنوعات میں" ای نمبرز"  کا استعمال اور انکی تفصیلات
15-غذائی  مصنوعات  پر " حلال"  کا لیبل اور اسکی شرعی و قانونی حیثیت

محور سوم:         حلا ل فوڈ انڈسٹری

1- حلا ل فوڈ انڈسٹری کے لئے شرعی قواعد وضوابط/   شریعہ اسٹینڈرز
2- حلال فوڈ  کی تجارت اور مارکیٹنگ  سے متعلق  شرعی قواعد وضوابط /شریعہ اسٹینڈرز
3-  مسلمان کے لیے حرام  غذاؤں  کی تیاری یا  حرام مصنوعات  کی فیکٹریوں میں حلال اشیا کے تیار کرنے کا حکم
4-  حرام غذاؤں اور حرام اجزاء  پر  مشتمل مصنوعات کی خرید و فروخت
5-   حلال فوڈ انڈسٹری اور اسلامی طریقہ ہائے تمویل
6- حلال فوڈ کی تجارت کا اقتصادی حجم
7- حلال فوڈ کاکاروبار اور اسکی مارکیٹنگ  
8-پاکستان میں حلال فوڈ انڈسٹری  کا جائزہ وتجزیہ
9- حلال انڈسٹری کے ملکی اقتصادی    ترقی پر اثرات
10- حلا ل فوڈ انڈسٹری کو در پیش مشکلات  اور   ان  سے متعلق اقدامات
11- حلال فوڈ انڈسٹری کے لئے افراد سازی اور انکی تربیت کا نظام

محور چہارم:       حلال فوڈ انڈسٹری اور کاروبار  کی  شرعی نگرانی

  1. حلال فوڈ انڈسٹری  اور کاروبار کی شرعی نگرانی کا طریقہ کار اور اسکا نظام
  2. حلال فوڈ انڈسٹری  اور کاروبار کی شرعی لحاظ سے  نگرانی  میں فقہ اکیڈیمیز اورفتوی کے اداروں کا کردار
  3. حلال  کی نگرانی کرنےاور سرٹیفکیٹس جاری کرنے والے اداروں کے طریقہء کار کا جائزہ
  4.   حلال امور کی  کی نگرانی  سے متعلق قواعد وضوابط
  5.  " حلال "  سرٹیفیکیٹس  جاری کرنے سے متعلق قواعد و ضوابط
  6.   جدید آلات اور سائنسی طریقوں سے حلال کی نگرانی کرنے کی حدود و قیود
  7.  حلال فوڈ میں شامل حرام اجزا کی  نشاندہی کرنے میں  فنی اور علمی  مہارتوں کا کردار اور اسکی حیثیت

محور پنجم:        حلال فوڈ انڈسٹری کے لئے  حیاتیاتی تحفظ اور  اس سے متعلق قانون سازی

1- حلال فوڈ کے حوالے سے کی جانے والی حکومتی و قانونی کاوشوں کا جائزہ:

  1. پاکستان
  2. سعودی عرب
  3. ملائشیا
  4. انڈونیشیا
  5. ترکی
  6. سعودی عرب
  7. خلیجی ممالک
  8. مغربی ممالک

2- حلال فوڈ   سے متعلق قانون سازی  کے بارے میں تجاویز
3- حلال فوڈ اور فوڈ سیفٹی
4- حلال فوڈ اور صارفین کے حقوق کا تحفظ
5-   حلال سے متعلق  فقہی قواعد اور اس  سلسلہ میں کی گئی  قانون سازی کا تقابلی جائزہ

تحقیقی مقالات پیش کرنے کی شرائط

  1. تحقیقی مقالہ کانفرنس کے محاور میں سے کسی محور پر ہو۔
  2. اسلوب تحقیق اور مصادر و مآخذ کے حوالہ جات کے لحاظ سے مقالہ نگار علمی تحقیق کے اصولوں کو مدنظر رکھے۔
  3. مقالہ نگار زبان کی صحت اور اسلوبِ نگارش کے حسن کو پیش ِ نظر رکھے۔
  4. علمی مقالہ پہلے کسی  مجلہ  میں شائع ہوا ہو، نہ اسے اس سے پہلے کسی کانفرنس وغیرہ میں پیش کیا گیا ہو اور نہ ہی وہ کسی پہلے سے لکھے گئے مقالے یا علمی تحقیق سے ماخوذ ہو۔
  5. مقالے کی ضخامت بشمول مآخذ و مصادر اے فور سائز کےتیس صفحات سے زائد نہ ہواور ایم ایس ورڈ میں کمپوز کیا گیا ہو۔
  6. غیر اردو مصطلحات اور ناموں کو قوسین میں لکھا جائے۔
  7. ملحقات، کتابیات اور فہارس مقالہ کے آخر میں فراہم کی جائیں۔
  8. حوالہ جات اور تعلیقات اینڈ نوٹس (End Notes ) کی بجائے فٹ نوٹس (Foot Notes ) کی صورت میں ذکر کی جائیں۔
  9. مقالے کے ہمراہ درج ذیل چیزیں فراہم کی جائیں:

ا.  مقالے کی سوفٹ کاپی
ب.  خلاصہ بحث )زیادہ سے زیادہ اے فور سائز  کے دو صفحات پر مشتمل ہو (
ج.  ایک صفحے پرمشتمل مقالہ نگار کا ذاتی  کوائف نامہ(CV )  اور (مقالہ نگار کے بیرون ملک سے ہونے  کی صورت میں ) پاسپورٹ کی کاپی۔ دوسرے صفحہ پر خلاصہ بحث۔
10. مقالہ کا پہلا صفحہ تحقیقی مقالے کے پورے عنوان، مقالہ نگار کے نام، علمی مقام ، ای میل ایڈریس اور مقالہ نگار کے اداری انتساب پر مشتمل ہو۔

عمومی اصول و ضوبط

  1. پیش کردہ علمی مقالات تحکیم، نظرِ ثانی اور درستگی کے لئے کانفرنس کی مجلس علمی میں پیش کئے جائیں گے۔
  2. مقالہ نگار تحکیم کرنے والوں کی تجاویز  کی روشنی میں اپنے مقالے میں تبدیلی کرنے کا پابند ہوگا۔
  3. مجلس علمی کو بقدر ضرورت مقالات کے مشمولات میں اس شرط کے ساتھ تبدیلی کا حق حاصل ہوگا کہ اس کی وجہ سے نفس مضمون میں خلل واقع نہ ہو۔
  4. پیش کردہ علمی مقالات کسی بھی صورت میں واپس نہیں بھیجے جائیں گے، خواہ انہین قبول کیا گیا ہو یا مسترد، نیز مقالے کے مسترد ہونے کی صورت میں مجلس علمی اس کی وجہ بتانے کی پابند نہیں۔
  5. مقالات عربی، انگریزی اور اردو میں سے کسی بھی زبان میں لکھے جا سکتے ہیں۔

اہم تاریخیں

خاکہ تحقیق جمع کرانے کی آخری تاریخ:

15 فروری 2017ء   بمطابق    17  جمادي الاول  1438ھ

مکمل مقالہ جمع کرانے کی آخری تاریخ:

5 April 2017

کانفرنس کا انعقاد:

24-25 October, 2017

 

کانفرنس کے انعقاد کی جگہ
قائد اعظم آڈیٹوریم، فیصل مسجد کیمپس، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، پاکستان

 

برائے خط و کتابت:

تمام خط و کتابت کانفرنس کی مجلس علمی کے صدر کے نام پر درج ذیل پتوں پر کی جائے:
ا.   ویب پیج:      www.iiu.edu.pk/halalfood.conf 
ب.  ای میل:   halalfood.conf@iiu.edu.pk
ج.   فون نمبر:    0092 321 5232721 0092 51 9019684 / 0092 51 9019916 / 0092 51 9258039
ھ.   پوسٹل ایڈرس:       کانفرنس سیکٹریٹ: کمرہ نمبر A009 ، کلیہ شریعہ و قانون، امام ابو حنیفہ بلاک،
     بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، H-10 ، اسلام آباد،پاکستان

 

برائے استفسارات

مردوں کے لئے

خواتین کے لئے

  1. حافظ محمد صديق   (کانفرنس کوآرڈینیٹر)
  2. عثمان رفيق   (کانفرنس کوآرڈینیٹر)
  1. مريم شفيق   (کانفرنس کوآرڈینیٹر)
  2. مہوش راني   (کانفرنس کوآرڈینیٹر)

ای میل:
hafiz.siddique@iiu.edu.pk
usman.rafiq@iiu.edu.pk
فون
0092 321 523 2721 0092 51 9019684
      0092 51 9019916 / 0092 51 9258039

ای میل:
maryam.shafiq@iiu.edu.pk
mahvish.rani@iiu.edu.pk
فون
0092 51 9019 341
0092 51 9019 318

ای میل مجلسِ علمی
halalfood.conf@iiu.edu.pk