Mayar Journal

تعارف

بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی میں شعبہ اردو کا قیام ۲۰۰۷ء میں عمل میں آیا۔آغاز ہی سے شعبے نے تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا اور پی ایچ ڈی اور ایم ایس کی سطح کے تحقیقی مقالات نیز طلبہ و اساتذہ کی تحقیقی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔گزشتہ دس سال کے عرصے میں اس شعبے کے گیارہ طلبہ و طالبات نے پی ایچ ڈی اور سینکڑوں طلبہ و طالبات نے ایم فل کی ڈگریاں حاصل کیں۔

۲۰۰۹ء میں شعبہ اردو نے اپنا ایک تحقیقی مجلہ معیار شائع کرنا شروع کیا جسے اندرون و بیرونِ ملک کے تحقیقی و علمی حلقوں میں ایک وقیع مقام حاصل ہے۔ معیار ایک شش ماہی جریدہ ہے جو گذشتہ دس برس سے بلا تعطل شائع ہو رہا ہے۔ 

پاکستان کی جامعات میں، گزشتہ چند برسوں سے ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی تحریک اور ترغیب کے نتیجے میں، تحقیقی سرگرمیوں میں جو اضافہ اور معیار میں بہتری کی جو صورت حال عام ہو ئی ہے وہ خاصی قابل تحسین اور معاشرتی علوم کی حد تک بھی، قدرے قابل اطمینان ہے۔ یہی صورت تحقیقی مجلوں کی ترتیب و اشاعت کے ضمن میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ چند برسوں پہلے تک ہمارے بیشتر اساتذہ میں تحقیقی سرگرمیاں کسی طرح قابلِ اطمینان نہ تھیں اور یہی صورت تحقیقی منصوبوں کے اختیار کرنے اور تحقیقی مقالات لکھنے کے عمل میں بھی نظر آتی تھی،مگر اب حالیہ عرصہ میں بیشتر جامعات کے معاشرتی علوم و فنون کے کلیے اور شعبۂ جاتِ زبان و ادب اور خصوصاََ شعبہ ہاے اُردو اپنے تحقیقی مجلوں کی اشاعت کا اہتمام کر رہے ہیں اور ان کی اشاعت کے تواتر اور معیار میں مسابقت کی ایک مناسب اور مثبت فضا بھی فروغ پاتی ہوئی نظر آنے لگی ہے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا شعبۂ اُردو اپنے ہمہ جہت تدریسی نصابات کے ساتھ ساتھ تحقیق کے فروغ اور تحقیق کے ترقی یافتہ عالمی معیار کی مناسبت سے جدید تر سائنٹیفک اصولوں کو اختیار کرتے ہوئے معیار کی بلندی کے لیے پُر عز م ہے۔ معیار کی بہتری اور بلندی کے مقصد ہی کے ذیل میں تحقیقی منصوبوں کے موضوعات کے تعین و انتخاب میں بھی یہ شعبہ خاصا حساس ہے۔ اس لیے سرسری ، سطحی ، علاقائی ، شخصی اور فرسودہ و بے اثر موضوعات سے ،جو معاشرے اور مستقبل کے لیے کوئی ناگزیر افادیت نہیں رکھتے، گریز کرتے ہوئے شعبہ میں ایسے منصوبوں اور موضوعات کو ترجیح دی جا رہی ہے جو ہمارے معاشرے کے لیے ، مستقبل کی علمی ضرورتوں کے لیے اور دیگر محققین کے مطالعات و منصوبوں کے لیے مفید و کارآمد ہوں۔

مجلہ معیاربھی شعبہ کے مذکورہ عزائم اور مصالح کا مظہر ہے۔ چناں چہ اسے شعبے کے متعینہ معیار کے مطابق علمی و تحقیقی اور غیر مطبوعہ مقالات کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہمارا اصرار ایسے مقالات کے حصول و شمول پر ہے جو جدید تنقیدی مباحث کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ فکر انگیز و معلوماتی ہوں اور دریافت و انکشاف کی حیثیت رکھتے ہوں یا علمی و ادبی نوادر، مخطوطات اور دستاویزات کی تحقیق و تدوین یا تعارف و تنقید پر مشتمل ہوں۔

ہم ایسے متون کے اُردو تراجم کے بھی ایک تحقیقی مجلے میں شمولیت کے حق میں ہیں کہ جو خود تحقیقی ہوں،تحقیق کے فکری و معاشرتی تقاضوں کو متاثرکرنے کا سبب بن سکتے ہوں یا علمی و فکری مباحث کے محرک بنے ہوں یا بن سکتے ہوں، تاکہ اس طرح بھی اُردو زبان میں موجود خلاء اُن سے پُر ہوتا رہے اور اُردو کے مصنفین اور اساتذہ و طلبہ ان سے بہرہ مندہوتے رہیں۔

ہم نے معیار کو اولین شمارے ہی سے اپنے مقاصد وعزائم کے مطابق،جس طرح ایک متعینہ معیار کے لحاظ سے منفرد اور وقیع بنانے کی کوشش وجستجو کی ہے اور ایک تحقیقی مجلے کے لیے عالمی سطح کے اعلی ترین معیار تک پہنچنے کی جو سعی و کاوش کی ہے،اسے دیکھ کر ملک کے اعلیٰ ترعلمی حلقوں اور اکابرِ تحقیق وادب ہی نے نہیں،بیرون ملک خصوصاًبھارت،یورپ وانگلستان اور شمالی امریکہ کے اسکالرز نے بھی جس طرح اس کی پذیرائی کی ہے اور ہماری ہمتیں بڑھائی ہیں،یہ ہمار ے لیے قابل اطمینان اور حوصلہ افزا ہے۔

اگرچہ معیار کے اولین شمارے میں ہم نے حالیہ برسوں کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی)کی مساعی کے نتیجے میں جامعات میں تحقیقی سرگرمیوں میں اضافے اور تحقیقی مجلات کی اشاعتوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس صورت حال کو خوش آئندہ اور امید افزا قرار دیا تھا کیونکہ معاشرتی علوم اور ادبیات کے شعبوں میں خالص و اعلیٰ معیاری تحقیقی مجلوں کی اشاعت کا فقدان تھایہ اشاعت خاصی محدود اور صرف دوایک معیاری مجلوں تک مخصوص تھی،لیکن ایچ ای سی کی تحریک وترغیب کے نتیجے میں جامعات سے نکلنے والے مجلوں کی تعداد میں ایک تو بتدریج اضافہ ہوا اور دوسرے کچھ مجلوں نے سنجیدگی،اخلاص ودیانت داری کے ساتھ(ایچ ای سی کے مقررہ معیار کے مطابق)ان شرائط وضوابط کی پاس داری کی کوشش کی اور حتی المقدور انھیں اختیار کر کے ان پر عمل بھی کرنا شروع کیا لیکن کبھی کبھی بے نیازی ولاپروائی اور دوست نوازی وانسانی ہمدردی کے منفی جذبات آڑے آ جاتے ہیں اور سفارشوں اور زورواثر کا سلسلہ بھی چل نکلتا ہے۔چناں چہ سرسری وسطحی، غیر معیاری موضوعات اور غیر سائنٹیفک اصول واسلوبِ تحقیق کی حامل تحریریں بھی ‘‘تحقیقی مجلوں’’کی زینت بننے لگتی ہیں اس لیے مجلہ معیار کو ہم خود احتسابی کے کڑے عمل سے گزارتے رہتے ہیں۔تاکہ ایچ ای سی کے نیک مقاصد اور مثبت اقدامات اس منفی صورت حال سے مزید متاثر نہ ہوں۔

اردومیں تحقیق کا اسلوب ومعیار،جو چاہے کہیں،کسی سطح پر ہو،بڑی حد تک ہمارے علم اورہمارے پیش نظر ہے۔ مگرہم کم از کم ایک حد تک اس سے پوری طرح مطمئن نہیں ۔ہماری عین خواہش ہے کہ اردو میں تحقیق ان جدیدتراور سائنٹیفک اصولوں اور طریقوں کو اختیار کرے جوآج کی ترقی یافتہ علمی دنیا میں رائج اور عام ہیں اوراردو تحقیق ابھی ان سے بالعموم ناواقف اور بے نیاز ہے۔شعبۂ اردو، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد) کو اردو تحقیق کی اسی کم زوری بلکہ فرسودگی کا پورا احساس ہے اور اسی لیے شعبۂ اردونے اپنے تحقیقی منصوبوں (برائے ایم ایس اور پی ایچ ڈی )کے لیے اور تحقیقی معیار کی تربیت وتدوین کے لیے مستحکم مزاجی کے ساتھ جدید تر رسمیات کو اختیار کرنے میں پیش رفت کی ہے اورمعیار کے مقالہ نگاروں سے بھی درخواست ہوتی ہے کہ وہ ان اصولوں کے مطابق اپنے مقالات میں متن،حواشی،حوالوں اور فہرست اسناد(کتابیات)کا اہتمام فرمائیں جو معیار کے سرورق کے اندرونی صفحے پر درج ہوتے ہیں۔ہم پُر امید ہیں کہ مقالہ نگار حضرات ہماری اس خواہش کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے مقالات میں ہماے مقررہ اصولوں کی پاسداری فرمائیں گے۔

یہ امربھی ہمارے لیے قابل اطمینان نہیں کہ اردو کی ادبی اور علمی صحافت اور تحقیقی مجلات میں تبصراتی مقالات(Review Artical )کا رواج یا تو عنقا ہے یا بہت محدود۔علمی ترقی کے اس دور میں اب بھی کتابوں پر تبصرے کے نام سے انتہائی سرسری،سطحی اور مختصر و بے مغز تبصروں کا رواج عام ہے۔خاص طورپر تحقیقی و علمی مجلوں میں تبصروں کا یہ عیب قطعی نامناسب اور ناگوار ہے۔تبصرے کو فی الوقعہ ایک عالمانہ،مبصرانہ اورمدبرانہ طرز واسلوب کا حامل اور پرمغزہونا چاہیے،جس سے کتاب اور اس کے مباحث ومطالعات پر نہ صرف سیر حاصل رائے سامنے آئے بلکہ یہ صاحبِ کتاب کے مطالعے اور اخذنتائج پر محاکمے کی حیثیت بھی رکھتا ہو اورمباحث یا مطالب کی ممکنہ تصحیح یا ان میں اضافے کا موجب بھی بن سکتا ہو۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تبصرے کو واقعتا ایک مؤقر ‘‘مقالے’’کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ،جب ہی اسے تبصراتی مقالہ یاReview Articleبھی کہا جاتا ہے۔اردو میں کبھی اس کی چند معیاری اور قابلِ تحسین مثالیں موجود رہی ہیں،لیکن آج یہ روایت شاذہی کہیں موجود نظرآتی ہے۔معیار اس روایت کے فروغ کا بھی خواہش مند رہتا ہے۔

اپنے ان مقاصد اور اہداف کے ساتھ مجلہ معیار تاحال اپنا تحقیقی و علمی معیار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ معیار کے پہلے چار شمارے (جنوری ۲۰۰۹ء تا دسمبر ۲۰۱۰ء) معروف محقق اور نقاد ڈاکٹر محمد معین الدین عقیل کی ادارت میں نکلے تھے۔ (جنوری ۲۰۱۱ء تا جون ۲۰۱۳ء ) شمارہ نمبر۵ سے لے کر شمارہ نمبر۹ تک اس کے مدیر ڈاکٹر رشید امجد رہے ہیں اور شمارہ نمبر۱۰ کے بعد سے (جولائی ۲۰۱۳ء تا حال ۲۰۱۸ء) معیار موجود مدیر ڈاکٹر عزیز ابن الحسن کی ادارت میں شائع ہو رہا ہے۔

۲۰۱۴ء میں شعبہُ اردو، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایک مرکز اشاریہ سازی بھی قائم کیا گیا ہے جس کے تحت اشاریہ اردو جرائد کی دو جلدیں شائع کی جا چکی ہیں۔اس جریدے میں ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے اُردو سے شائع ہونے والے جرائد کے اختصاریے شائع ہوتے ہیں۔اس اشاریے کو ہائر ایجوکیشن آف پاکستان نے منظور کر رکھا ہے اور اس میں شامل ہونے والے متعدد مجلات کو اس اشاریے کی بنا پر درجہ ‘‘ z ’’سے درجہ‘‘y ’’میں ترقی دی گئی ہے۔اشاریہ اردو جرائد کی مدیر ڈاکٹر نجیبہ عارف ہیں۔